حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 375 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 375

۱۰۵۷ ہوتی ہیں اور فسق و فجور کے مرتکب ہو جاتے ہیں تو آزادی میں کیا کچھ نہ ہوگا۔ مردوں کی حالت کا اندازہ کرو کہ وہ کس طرح بے لگام گھوڑے کی طرح ہو گئے ہیں نہ خدا کا خوف رہا ہے نہ آخرت کا یقین ہے۔ دنیاوی لذات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ پس سب سے اول ضروری ہے کہ اس آزادی اور بے پردگی سے پہلے مردوں کی اخلاقی حالت درست کرو۔ اگر یہ درست ہو جاوے اور مردوں میں کم از کم اس قدر قوت ہو کہ وہ اپنے نفسانی جذبات کے مغلوب نہ ہوسکیں تو اُس وقت اس بحث کو چھیڑو کہ آیا پردہ ضروری ہے کہ نہیں ورنہ موجودہ حالت میں اس بات پر زور دینا کہ آزادی اور بے پردگی ہو گویا بکریوں کو شیروں کے آگے رکھ دینا ہے۔ ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کسی بات کے نتیجہ پر غور نہیں کرتے ۔ کم از کم اپنے کانشنس سے ہی کام لیں کہ آیا مردوں کی حالت ایسی اصلاح شدہ ہے کہ عورتوں کو بے پردہ اُن کے سامنے رکھا جاوے۔ قرآن شریف نے ( جو کہ انسان کی فطرت کے تقاضوں اور کمزوریوں کو مد نظر رکھ کر حسب حال تعلیم دیتا ہے ) کیا عمدہ مسلک اختیار کیا ہے قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ ہے کہ تو ایمان والوں کو کہہ دے کہ وہ اپنی نگاہیں کو نیچا رکھیں اور اپنے سوراخوں کی حفاظت کریں ۔ یہ وہ عمل ہے جس سے اُن کے نفوس کا تزکیہ ہوگا ۔ اسلام نے جو یہ حکم دیا ہے کہ مرد عورت سے او ہے کہ مرد عورت سے اور عورت مرد سے پردہ کرے۔ اس سے غرض یہ ہے کہ نفس انسان پھسلنے اور ٹھوکر کھانے کی حد سے بچا رہے کیونکہ ابتداء میں اس کی یہی حالت ہوتی ہے کہ وہ بدیوں کی طرف جھکا پڑتا ہے اور ذراسی بھی تحریک ہو تو بدی پر ایسے گرتا ہے جیسے کئی دنوں کا بھوکا آدمی کسی لذیذ کھانے پر ۔ یہ انسان کا فرض ہے کہ اس کی اصلاح کرے۔ البدر ۱۸ ستمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۶ کالم نمبر ۳ و صفحه ۷ کالم نمبر ۲ ۔ ملفوظات جلد ؟ ا وصفحہ ۷ کالم نمبر ۲ ۔ ملفوظات جلد چہارم صفحه ۱۰۴، ۱۰۵ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) خدا تعالیٰ نے خلق احصان یعنی عفت کے حاصل کرنے کے لئے صرف اعلیٰ تعلیم ہی نہیں فرمائی بلکہ انسان کو پاک دامن رہنے کے لئے پانچ علاج بھی بتلا دیئے ہیں یعنی یہ کہ (۱) اپنی آنکھوں کو نامحرم پر نظر ڈالنے سے بچانا۔ (۲) کانوں کو نامحرموں کی آواز سننے سے بچانا۔ (۳) نامحرموں کے قصے نہ سننا (۴) اور دوسری تمام تقریبوں سے جن میں اس بد فعل کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہے اپنے تئیں بچانا ۔ (۵) اگر نکاح ا نہ ہو تو روزہ رکھنا وغیرہ۔ اس جگہ ہم بڑے دعوئی کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ اعلیٰ تعلیم ان سب تدبیروں النور: