حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 374
۱۰۵۶ نہ کہہ دیں کہ اس میں بہت سی خرابیاں ہیں جو بعد میں معلوم ہوں گی۔ یہ بات ہر ایک فہیم انسان سمجھ سکتا ہے کہ بہت سا حصہ انسانوں کا نفس امارہ کے ماتحت چل رہا ہے اور وہ اپنے نفس کے ایسے قابو ہیں کہ اُس کے جوشوں کے وقت کچھ بھی خدا تعالی کی سزا کا دھیان نہیں رکھتے ۔ جوان اور خوبصورت عورتوں کو دیکھ کر بد نظری سے باز نہیں آتے۔ اور ایسے ہی بہت سی عورتیں ہیں کہ خراب دلی سے بیگانہ مردوں کی طرف نگاہیں کرتی ہیں اور جب فریقین کو باوجود ان کی اس خراب حالت میں ہونے کے پوری آزادی دی جائے تو یقیناً ان کا وہی انجام ہو گا جیسا کہ یورپ کے بعض حصوں سے ظاہر ہے۔ ہاں جب یہ لوگ در حقیقت پاک دل ہو جائیں گے اور ان کی امارگی جاتی رہے گی اور شیطانی روح نکل جائے گی اور ان کی آنکھوں میں خدا کا خوف پیدا ہو جائے گا اور ان کے دلوں میں خدا کی عظمت قائم ہو جائے گی اور وہ ایک پاک تبدیلی کر لیں گے اور خدا ترسی کا ایک پاک چولا پہن لیں گے۔ تب جو چاہیں سو کریں ۔ کیونکہ اس وقت وہ خدا کے ہاتھ کے خوجے ہوں گے گویا وہ مرد نہیں ہیں اور اُن کی آنکھیں اس بات سے اندھی ہوں گی کہ نامحرم عورت کو بدنظری سے دیکھ سکیں یا ایسا بد خیال دل میں لاسکیں ۔ مگر اے پیارو! خدا آپ تمہارے دلوں میں الہام کرے ابھی وہ وقت نہیں کہ تم ایسا کرو۔ اور اگر ایسا کرو گے تو ایک زہر ناک پیچ قوم میں پھیلاؤ گے ۔ یہ زمانہ ایک ایسا نازک زمانہ ہے کہ اگر کسی زمانہ میں پردہ کی رسم نہ ہوتی تو اس زمانہ میں ضرور ہونی چاہئے تھی کیونکہ کل جنگ ہے اور زمین پر بدی اور فسق و فجور اور شراب خوری کا زور ہے اور دلوں میں دہر یہ پن کے خیالات پھیل رہے ہیں اور خدا تعالیٰ کے احکام کی دلوں میں سے عظمت اُٹھ گئی ہے۔ زبانوں پر سب کچھ ہے اور لیکچر بھی منطق اور فلسفہ سے بھرے ہوئے ہیں مگر دل روحانیت سے خالی ہیں ۔ ایسے وقت میں کب مناسب ہے کہ اپنی غریب بکریوں کو بھیڑیوں کے بنوں میں چھوڑ دیا جائے۔ لیکچر لا ہور۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۱۷۴،۱۷۳) یورپ کی طرح بے پردگی پر بھی یہ لوگ زور دے رہے ہیں لیکن یہ ہرگز مناسب نہیں۔ یہی عورتوں کی آزادی فسق و فجور کی جڑ ہے جن ممالک نے اس قسم کی آزادی کو روا رکھا ہے۔ ذرا اُن کی اخلاقی حالت کو اندازہ کرو۔ اگر اس کی آزادی اور بے پردگی سے اُن کی عفت اور پاک دامنی بڑھ گئی ہے تو ہم مان لیں گے کہ ہم غلطی پر ہیں لیکن یہ بات بہت ہی صاف ہے کہ جب مرد اور عورت جوان ہوں اور آزادی اور بے پردگی بھی ہو تو اُن کے تعلقات کس قدر خطرناک ہوں گے ۔ بد نظر ڈالنی اور نفس کے جذبات سے اکثر مغلوب ہو جانا انسان کا خاصہ ہے۔ پھر جس حالت میں کہ پردہ میں بے اعتدالیاں