حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 353
۱۰۳۵ اللہ تعالیٰ اُن کو یہی فرمائے گا کہ تمہارا یہ گناہ ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ سے بدظنی کی ۔ الحکم، مورخه ۰ ارمئی ۱۹۰۵ ء صفحه ۲ کالم نمبر ا - ملفوظات جلد اول صفحه ۲۴۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) فساد اس سے شروع ہوتا ہے کہ انسان ظنون فاسدہ اور شکوک سے کام لینا شروع کرے۔ اگر نیک ظن کرے تو پھر کچھ دینے کی توفیق بھی مل جاتی ہے۔ جب پہلی ہی منزل پر خطا کی تو پھر منزل مقصود پر پہنچنا مشکل ہے۔ بدظنی بہت بُری چیز ہے۔ انسان کو بہت سی نیکیوں سے محروم کر دیتی ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ انسان خدا پر بدظنی شروع کر دیتا ہے۔ (الحکم، مورخہ یکم راکتو بر ۱۹۰۰ ء صفحه ۲ کالم نمبرا - ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۳۷۵ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) جو لوگ بدگمانی کو شیوہ بناتے ہیں تقویٰ کی راہ سے وہ بہت دور جاتے ہیں بے احتیاط اُن کی زباں وار کرتی ہے اک دم میں اس علیم کو بیزار کرتی ہے اک بات کہہ کے اپنے عمل سارے کھوتے ہیں پھر شوخیوں کا بیج ہر ایک وقت ہوتے ہیں کچھ ایسے سو گئے ہیں ہمارے یہ ہم وطن اُٹھتے نہیں ہیں ہم نے تو سو سو کئے جتن سب عضو سست ہو گئے غفلت ہی چھا گئی قوت تمام نوک زباں میں ہی آ گئی! یا بد زباں دکھاتے ہیں یا ہیں وہ بدگماں باقی خبر نہیں ہے کہ اسلام ہے کہاں تم دیکھ کر بھی بد کو بچو بد گمان سے شاید تمہاری آنکھ ہی کر جائے کچھ خطا شاید تمہاری فہم کا ہی کچھ قصور ہو بدنما ڈرتے رہو عقاب خدائے جہان سے شاید وہ وہ بد بد نہ ہو جو تمہیں ہے آزمائش رب غفور شاید وہ وہ ہو پھر تم تو بدگمانی سے اپنی ہوئے ہلاک خود سر پہ اپنے لے لیا خشم خدائے پاک گر ایسے تم دلیریوں میں بے حیا ہوئے پھر انتقاء کے سوچو کہ معنے ہی کیا ہوئے موسیٰ بھی بدگمانی سے شرمندہ ہو گیا قرآں میں خضر نے جو کیا تھا پڑھو ذرا بندوں میں اپنے بھید خدا کے ہیں صد ہزار تم کو نہ علم ہے نہ حقیقت ہے آشکار ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ( نصرت الحق ) ۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۸، ۱۹)