حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 352 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 352

۱۰۳۴ بدظنی بدظنی ایک ایسا مرض ہے اور ایسی بُری بلا ہے جو انسان کو اندھا کر کے ہلاکت کے ایک تاریک کنوئیں میں گرا دیتی ہے۔ بدظنی ہی ہے جس نے ایک مردہ انسان کی پرستش کرائی ۔ بدظنی ہی تو ہے جو لوگوں کو خدائے تعالیٰ کی صفات خلق ۔ رحم ۔ رازقیت وغیرہ سے معطل کر کے نعوذ باللہ ایک فرد معطل اور شئے بیکار بنا دیتی ہے۔ الغرض اسی بدظنی کے باعث جہنم کا بہت بڑا حصہ اگر کہوں کہ سارا حصہ بھر جائے گا بنادیتی تو مبالغہ نہیں۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ماموروں سے بدظنی کرتے ہیں وہ خدائے تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے فضل کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ( رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ء صفحہ ۹۷، ۹۸ ۔ ملفوظات جلد اول صفحہ ۶۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) بدظنی ایک سخت بلا ہے جو ایمان کو ایسی جلدی جلا دیتی ہے جیسا کہ آتش سوزاں خس و خاشاک کو اور وہ جو خدا کے مرسلوں پر بدظنی کرتا ہے خدا اس کا خود دشمن ہو جاتا ہے اور اس کی جنگ کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔ اور وہ اپنے برگزیدوں کے لئے اس قدر غیرت رکھتا ہے جو کسی میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی۔ میرے پر جب طرح طرح کے حملے ہوئے تو وہی خدا کی غیرت میرے لئے افروختہ ہوئی ۔ (رسالہ الوصیت ۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۱۷ حاشیه ) میں سچ کہتا ہوں کہ یہ بدظنی بہت ہی بُری بلا ہے انسان کے ایمان کو تباہ کر دیتی ہے اور صدق اور راستی سے دور پھینک دیتی ہے دوستوں کو دشمن بنا دیتی ہے۔ صدیقوں کے کمال کو حاصل کرنے کے ۔ لئے ضروری ہے کہ انسان بدظنی سے بہت ہی بچے اور اگر کسی کی نسبت کوئی سوءظن پیدا ہو تو کثرت کے ساتھ استغفار کرے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرے تا کہ اس معصیت اور اس کے بُرے نتیجہ سے بچ جاوے جو اس بدظنی کے پیچھے آنے والا ہے اس کو کبھی معمولی چیز نہیں سمجھنا چاہئے ۔ یہ بہت ہی خطرناک بیماری ہے جس سے انسان بہت جلد ہلاک ہو جاتا ہے۔ الحکم، مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۵ء صفحه ۲ کالم ۴ - ملفوظات جلد اول صفحہ ۲۴۶، ۲۴۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) غرض بدظنی انسان کو تباہ کر دیتی ہے۔ یہاں تک کہ جب دوزخی جہنم میں ڈالے جاویں گے تو