حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 330 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 330

۱۰۱۲ کر دیں اور خدا کی توحید کے پھیلانے کے لئے ایسے عاشق ہوں کہ درویشانہ طور پر سختی اٹھا کر افریقہ کے ریگستان تک پہنچیں اور اس ملک میں اسلام کو پھیلا دیں اور پھر ہر یک قسم کی صعوبت اٹھا کر چین تک پہنچیں نہ جنگ کے طور پر بلکہ محض درویشانہ طور پر اور اس ملک میں پہنچ کر دعوت اسلام کریں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے بابرکت وعظ سے کئی کروڑ مسلمان اس زمین میں پیدا ہو جائیں اور پھر ٹاٹ پوش درویشوں کے رنگ میں ہندوستان میں آئیں اور بہت سے حصہ آریہ ورت کو اسلام سے مشرف کر دیں اور یورپ کی حدود تک لا إِلهَ إِلَّا الله کی آواز پہنچا دیں ۔ تم ایمانا کہو کہ کیا یہ کام ان لوگوں کا ہے جو جبراً مسلمان کئے جاتے ہیں۔ جن کا دل کافر اور زبان مومن ہوتی ہے۔ نہیں بلکہ یہ ان لوگوں کے کام ہیں جن کے دل نور ایمان سے بھر جاتے ہیں اور جن کے دلوں میں خدا ہی خدا ہوتا ہے۔ پیغام صلح - روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۴۶۸، ۴۶۹) مسیح موعود دنیا میں آیا ہے تاکہ دین کے نام سے تلوار اٹھانے کے خیال کو دور کرے اور اپنے حجج اور براہین سے ثابت کر دکھائے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو اپنی اشاعت میں تلوار کی مدد کا ہرگز محتاج نہیں بلکہ اس کی تعلیم کی ذاتی خوبیاں اور اس کے حقائق و معارف و حجج و براہین اور خدا تعالیٰ کی زندہ تائیدات اور نشانات اور اس کا ذاتی جذب ایسی چیزیں ہیں جو ہمیشہ اس کی ترقی اور اشاعت کا موجب ہوتی ہیں ۔ اس لئے وہ تمام لوگ آگاہ رہیں جو اسلام کے بزور شمشیر پھیلائے جانے کا اعتراض کرتے ہیں کہ وہ اپنے اس دعوی میں جھوٹے ہیں۔ اسلام کی تاثیرات اپنی اشاعت کے لئے کسی جبر کی محتاج نہیں ہیں ۔ اگر کسی کو شک ہے تو وہ میرے پاس رہ کر دیکھ لے کہ اسلام اپنی زندگی کا ثبوت براہین اور نشانات سے دیتا ہے۔ اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے اور اس نے ارادہ فرمایا ہے کہ ان تمام اعتراضوں کو اسلام کے پاک وجود سے دور کر دے جو خبیث آدمیوں نے اس پر کئے ہیں۔ تلوار کے ذریعہ اسلام کی اشاعت کا اعتراض کرنے والے اب سخت شرمندہ ہوں گے۔ الحکم، مورخه ۳۰ را پریل ۱۹۰۲ ء صفحه ۵ کالم ۳ صفحه ۶ ۱۹۰۲ء صفحہ ۵ کالم ۳ صفحه ۶ کالم ۱ - ملفوظات جلد دوم صفحہ ۱۲۹ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) اما العقيدة المشهورة اعنى قول بعض العلماء أن المسيح الموعود ينزل من السماء و يقاتل الكفار ولا يقبل الجزية بل اما القتل و اما الاسلام فَاعْلَمُوا انها باطلة و مملوة من انواع عقیدہ مشہورہ یعنی قول بعض علماء کا جو مسیح موعود آسمان سے نازل ہوگا اور کفار سے لڑے گا اور جزیہ قبول نہیں کرے گا بلکہ دو باتوں میں سے ایک ہوگی یا قتل یا اسلام ۔ پس جاننا چاہیے کہ یہ عقیدہ سرا سر باطل ہے اور طرح طرح کے خطاؤں