حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 329
۱۱۰۱ چاہئے جس کے کسی مقام اور کسی محل میں دشمنوں کے مقابلہ کی تعلیم نہ ہو اور ہمیشہ حلم اور نرمی کے پیرا یہ میں اپنی محبت اور رحمت کو ظاہر کرے ۔ ایسے لوگ اپنی دانست میں خدائے عز و جل کی بڑی تعظیم کر رہے ہیں کہ جو اس کی تمام صفات کاملہ کو صرف نرمی اور ملائمت پر ہی ختم کرتے ہیں۔ لیکن اس معاملہ میں فکر اور غور کرنے والوں پر باآسانی کھل سکتا ہے کہ یہ لوگ بڑی موٹی اور فاش غلطی میں مبتلا ہیں ۔ خدا کے قانون قدرت پر نظر ڈالنے سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کے لئے وہ رحمت محض تو ضرور ہے مگر وہ رحمت ہمیشہ اور ہر حال میں نرمی اور ملائمت کے رنگ میں ظہور پذیر نہیں ہوتی بلکہ وہ سراسر رحمت کے تقاضا سے طبیب حاذق کی طرح کبھی شربت شیریں ہمیں پلاتا ہے اور کبھی دوائی تلخ دیتا ہے۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ۔ روحانی خزائن جلده ۱ صفحه ۴۵۱) تمام سچے مسلمان جو دنیا میں گذرے کبھی ان کا یہ عقیدہ نہیں ہوا کہ اسلام کو تلوار سے پھیلانا چاہئے بلکہ ہمیشہ اسلام اپنی ذاتی خوبیوں کی وجہ سے دنیا میں پھیلا ہے پس جو لوگ مسلمان کہلا کر صرف یہی بات جانتے ہیں کہ اسلام کو تلوار سے پھیلانا چاہئے وہ اسلام کی ذاتی خوبیوں کے معترف نہیں ہیں اور ان کی کارروائی درندوں کی کارروائی سے مشابہ ہے۔ تریاق القلوب - روحانی خزائن جلد ۵ ۱ صفحه ۱۶۷ حاشیه ) قرآن میں صاف حکم ہے کہ دین کے پھیلانے کے لئے تلوارمت اٹھاؤ اور دین کی ذاتی خوبیوں کو پیش کرو اور نیک نمونوں سے اپنی طرف کھینچو اور یہ مت خیال کرو کہ ابتدا میں اسلام میں تلوار کا حکم ہوا۔ کیونکہ وہ تلوار دین کو پھیلانے کے لئے نہیں کھینچی گئی تھی بلکہ دشمنوں کے حملوں سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے اور یا امن قائم کرنے کے لئے کھینچی گئی تھی۔ مگر دین کے لئے جبر کرنا کبھی مقصد نہ تھا۔ (ستارہ قیصریہ۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۲۰، ۱۲۱) میں نہیں جانتا کہ ہمارے مخالفوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ اسلام تلوار کی زور سے پھیلا ہے۔ خدا تو قرآن شریف میں فرماتا ہے لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ لے یعنی دین اسلام میں جبر نہیں۔ تو پھر کس نے جبر کا حکم دیا۔ اور جبر کے کون سے سامان تھے؟ اور اور کیا وہ لوگ جو جبر سے مسلمان کئے جاتے ہیں ان کا یہی صدق اور یہی ایمان ہوتا ہے کہ بغیر کسی تنخواہ پانے کے باوجود دو تین سو آدمی ہونے کے ہزاروں آدمیوں کا مقابلہ کریں اور جب ہزار تک پہنچ جائیں تو کئی لاکھ دشمن کو شکست دے دیں اور دین کو دشمن کے حملہ سے بچانے کے لئے بھیڑوں بکریوں کی طرح سر کٹا دیں اور اسلام کی سچائی پر اپنے خون سے مہریں ا البقرة: ۲۵۷