حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 245 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 245

۹۲۷ نتیجہ بھی نکلا کہ وہ آسمان پر ہرگز نہیں گیا کیونکہ آسمان پر جانا اس منصوبہ کی ایک جز بھی اور مصلوب ہونے کی ایک فرع تھی ۔ پس جبکہ ثابت ہوا کہ وہ نہ لعنتی ہوا اور نہ تین دن کے لئے دوزخ میں گیا اور نہ مرا تو ۔ پھر یہ دوسری جز آسمان پر جانے کی بھی باطل ثابت ہوئی اور اس پر اور بھی دلائل ہیں جو انجیل سے پیدا ہوتے ہیں اور وہ ہم ذیل میں لکھتے ہیں ۔ دو چنانچہ مجملہ ان کے ایک یہ قول ہے جو سیح کے منہ سے نکلا ۔ لیکن میں اپنے جی اُٹھنے کے بعد تم سے آگے جلیل کو جاؤں گا ۔“ دیکھومتی باب ۲۶ آیت ۳۲۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح قبر سے نکلنے کے بعد جلیل کی طرف گیا تھا نہ آسمان کی طرف اور مسیح کا یہ کلمہ کہ اپنے جی اٹھنے کے بعد اس سے مرنے کے بعد جینا مراد نہیں ہو سکتا بلکہ چونکہ یہودیوں اور عام لوگوں کی نظر میں وہ صلیب پر مر چکا تھا اس لئے مسیح نے پہلے سے اُن کے آئندہ خیالات کے موافق یہ کلمہ استعمال کیا اور در حقیقت جس شخص کو صلیب پر کھینچا گیا اور اُس کے پیروں اور ہاتھوں میں کیل ٹھونکے گئے یہاں تک کہ وہ اس تکلیف سے غشی میں ہو کر مردہ کی سی حالت میں ہو گیا اگر وہ ایسے صدمہ سے نجات پا کر پھر ہوش کی حالت میں آ جائے تو اس کا یہ کہنا مبالغہ نہیں ہو گا کہ میں پھر زندہ ہو گیا ۔ غرض یہ آیت جس کو ابھی ہم نے لکھا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح قبر سے نکل کر گلیل کی طرف گیا۔ اور مرقس کی انجیل میں لکھا ہے کہ وہ قبر سے نکل کر جلیل کی سڑک پر جاتا ہوا دکھائی دیا ۔ اور آخران گیاراں حواریوں کو ملا جبکہ وہ کھانا کھا رہے تھے اور اپنے ہاتھ اور پاؤں جو زخمی تھے دکھائے اور انہوں نے گمان کیا کہ شائد یہ روح ہے تب اس نے کہا کہ مجھے چھوڑ اور دیکھو کیونکہ روح کو جسم اور ہڈی نہیں جیسا کہ مجھ میں دیکھتے ہو اور اُن سے ایک بھونی ہوئی مچھلی کا ٹکڑہ اور شہد کا ایک چھتہ لیا اور ان کے سامنے کھایا۔ دیکھو مرقس باب ۱۶ آیت ۱۴ اور لوقا باب ۲۴ آیت ۳۹ اور ۴۰ اور ۱۴۱ اور ۴۲۔ ان آیات سے یقیناً معلوم ہوتا ہے کہ مسیح ہرگز آسمان پر نہیں گیا بلکہ قبر سے نکل کر جلیل کی طرف گیا اور معمولی جسم اور معمولی کپڑوں میں انسانوں کی طرح تھا اگر وہ مر کر زندہ ہوتا تو کیونکر ممکن تھا کہ جلالی جسم میں صلیب کے زخم باقی رہ جاتے اور اس کو روٹی کھانے کی کیا حاجت تھی ؟ اور اگر تھی تو پھر اب بھی روٹی کھانے کا محتاج ہوگا ۔ ناظرین کو اس دھو کے میں نہیں پڑنا چاہیے کہ یہودیوں کی صلیب اس زمانہ کی پھانسی کی طرح ہوگی جس سے نجات پانا قریباً محال ہے کیونکہ اس زمانہ کی صلیب میں کوئی رستہ گلے میں نہیں ڈالا جاتا تھا اور نہ تختہ پر سے گرا کر لٹکایا جاتا تھا بلکہ صرف صلیب پر کھینچ کر ہاتھوں اور پیروں میں کیل ٹھونکے جاتے