حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 244

۹۲۶ ماسوا اس کے صلیب کی موت سے نجات پانا اس کو اسی لئے بھی ضروری تھا کہ مقدس کتاب میں لکھا ہے کہ جو کوئی کا ٹھ پر لٹکایا گیا سولعنتی ہے اور لعنت کا ایک ایسا مفہوم ہے کہ جو عیسی مسیح جیسے برگزیدہ پر ایک دم کے لئے بھی تجویز کرنا سخت ظلم اور نا انصافی ہے کیونکہ باتفاق تمام اہل زبان لعنت کا مفہوم دل سے تعلق رکھتا ہے اور اس حالت میں کسی کو ملعون کہا جائیگا جبکہ حقیقت میں اُس کا دل خدا سے برگشتہ ہو کر سیاہ ہو جائے اور خدا کی رحمت سے بے نصیب اور خدا کی محبت سے بے بہرہ اور خدا کی معرفت سے بگلی تہی دست اور خالی اور شیطان کی طرح اندھا اور بے بہرہ ہو کر گمراہی کے زہر سے بھرا ہوا ہو۔ اور خدا کی محبت اور معرفت کا نور ایک ذرہ اُس میں باقی نہ رہے اور تمام تعلق مہر و وفا کا ٹوٹ جائے ۔ اور اس میں اور خدا میں باہم بغض اور نفرت اور کراہت اور عداوت پیدا ہو جائے ۔ یہاں تک کہ خدا اس کا دشمن اور وہ خدا کا دشمن ہو جائے اور خدا اس سے بیزار اور وہ خدا سے بیزار ہو جائے ۔ غرض ہر ایک صفت میں شیطان کا وارث ہو جائے اور اسی وجہ سے لعین شیطان کا نام ہے۔ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسیح پر کبھی ایسا زمانہ آیا تھا کہ اس کا دل در حقیقت خدا سے برگشتہ اور خدا کا منکر اور خدا سے بیزار اور خدا کا دشمن ہو گیا تھا ؟ کیا ہم گمان کر سکتے ہیں کہ مسیح کے دل نے کبھی یہ محسوس کیا تھا کہ وہ اب خدا سے برگشتہ اور خدا کا دشمن اور کفر اور انکار کی تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے؟ پھر اگر مسیح کے دل پر کبھی ایسی حالت نہیں آئی بلکہ وہ ہمیشہ محبت اور معرفت کے نور سے بھرا رہا تو اسے دانشمند و! یہ سوچنے کا مقام ہے کہ کیونکر ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسیح کے دل پر نہ ایک لعنت بلکہ ہزاروں خدا کی لعنتیں اپنی کیفیت کے ساتھ نازل ہوئی تھیں۔ معاذ اللہ ہرگز نہیں تو پھر ہم کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ نعوذ باللہ وہ لعنتی ہوا ؟ ۔ یہ بھی یاد رہے کہ ایسا خیال صرف حضرت مسیح علیہ السلام کی شان نبوت اور مرتبہ رسالت کے ہی مخالف نہیں بلکہ اُن کے اس دعوی کمال اور پاکیزگی اور محبت اور معرفت کے بھی مخالف ہے جو انہوں نے جابجا انجیل میں ظاہر کیا ہے۔ انجیل کو پڑھ کر دیکھو کہ حضرت عیسی علیہ السلام صاف دعوی کرتے ہیں کہ میں جہان کا نور ہوں۔ میں ہادی ہوں اور میں خدا سے اعلیٰ درجہ کی محبت کا تعلق رکھتا ہوں اور میں نے اس سے پاک پیدائش پائی ہے اور میں خدا کا پیارا بیٹا ہوں ۔ پھر باوجودان غیر منفک اور پاک تعلقات کے لعنت کا نا پاک مفہوم کیونکر مسیح کے دل پر صادق آ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ پس بلا شبہ یہ بات ثابت ہے کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا یعنے صلیب پر نہیں مرا کیونکہ اُس کی ذات صلیب کے نتیجہ سے پاک ہے اور جبکہ مصلوب نہیں ہوا تو لعنت کی نا پاک کیفیت سے بے شک اس کے دل کو بچایا گیا اور بلاشبہ اس سے یہ