حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 164
۸۴۶ کے ہم کو کہتے ہیں کہ ہم ختم نبوت کے منکر ہیں ۔ میں ایسے مریضوں کو کیا کہوں اور ان پر کیا افسوس کروں۔ الحکم مورخه ۷ ار مارچ ۱۹۰۵ء صفحہ ۶ کالم نمبر ۴ - ملفوظات جلد اول صفحہ ۲۲۷، ۲۲۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) ختم نبوت کے متعلق میں پھر کہنا چاہتا ہوں کہ خاتم النبین کے بڑے معنے یہی ہیں کہ نبوت کے امور صلى الله عروسه کو آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت ﷺ پر ختم کیا ۔ یہ تو موٹے اور ظاہر معنے ہیں ۔ دوسرے یہ معنے صلى الله عروسه ہیں کہ کمالات نبوت کا دائرہ آنحضرت ﷺ پر ختم ہو گیا ۔ یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ قرآن نے ناقص باتوں کا کمال کیا اور نبوت ختم ہو گئی اس لئے اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ لے کا مصداق اسلام ہو گیا ۔ غرض یہ نشانات نبوت ہیں ۔ ان کے ہیں۔ ان کی کیفیت اور کنہ پر بحث پر بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اصول صاف اور روشن ہیں اور وہ ثابت شدہ صداقتیں کہلاتی ہیں ۔ ان باتوں میں پڑنا مومن کو ضروری نہیں ایمان لانا ضروری ہے۔ اگر کوئی مخالف اعتراض کرے تو ہم اس کو روک سکتے ہیں۔ اگر وہ بند نہ ہو تو ہم اس کو کہہ سکتے ہیں کہ پہلے اپنے جزئی مسائل کا ثبوت دے۔ ا الغرض مہر نبوت آنحضرت ﷺ کے نشان نبوت میں سے ایک نشان ہے جس پر ایمان لانا ہر مسلمان مومن کو ضروری ہے۔ صلى الله علوسه۔ الحکم مورخه ۰ ارجنوری ۱۸۹۹ء صفحه ۸، ۹ - ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۸۹ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) جس کامل انسان پر قرآن شریف نازل ہوا اس کی نظر محدود نہ تھی اور اس کی عام غمخواری اور ہمدردی میں کچھ قصور نہ تھا بلکہ کیا باعتبار زمان اور کیا باعتبار مکان اس کے نفس کے اندر کامل ہمدردی موجود تھی اس لئے قدرت کی تجلیات کا پورا اور کامل حصہ اس کو ملا اور وہ خاتم الانبیاء بنے مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہے بجز اس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا اور اس کی اُمت کیلئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ کا دروازہ کبھی بند نہ ہوگا اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کیلئے امتی ہونا لازمی ہے اور اس کی ہمت اور ہمدردی نے اُمت کو ناقص حالت پر چھوڑ نا نہیں چاہا اور ان پر وحی کا دروازہ جو حصول معرفت کی اصل جڑھ ہے بند رہنا گوارا نہیں کیا ۔ ہاں اپنی ختم رسالت کا نشان قائم رکھنے کیلئے یہ چاہا کہ فیض وحی آپ کی پیروی کے وسیلہ سے ملے اور جو شخص امتی نہ ہو اس پر وحی الہی کا دروازہ بند ہو۔ سوخدا نے ان معنوں سے آپ کو خاتم الانبیاء ٹھیرایا ۔ لہذا قیامت تک یہ بات قائم ہوئی کہ جو شخص سچی پیروی سے اپنا اُمتی ہونا ثابت نہ کرے اور آپ کی متابعت میں اپنا تمام وجود محو نہ کرے ایسا انسان قیامت تک نہ کوئی کامل وحی پاسکتا ہے اور نہ کامل ملہم ہو سکتا ہے کیونکہ مستقل نبوت ا المآئدة: