حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 163
۸۴۵ صلى الله عربی اور عبرانی زبان میں نبی کے معنے صرف پیشگوئی کرنے والے کے ہیں جو خدا تعالیٰ سے الہام پا کر پیشگوئی کرے پس جبکہ قرآن شریف کی رو سے ایسی نبوت کا دروازہ بند نہیں ہے جو بتوسط فیض و اتباع آنحضرت کسی انسان کو خدا تعالیٰ سے شرف مکالمہ اور مخاطبہ حاصل ہو اور وہ بذریعہ وحی الہی کے مخفی علو امور پر اطلاع پاوے تو پھر ایسے نبی اس امت میں کیوں نہیں ہونگے اس پر کیا دلیل ہے۔ ہمارا مذہب نہیں ہے کہ ایسی نبوت پر مہر لگ گئی ہے صرف اس نبوت کا دروازہ بند ہے جو احکام شریعت جدیدہ ساتھ رکھتی ہو یا ایسا دعوی ہو جو آنحضرت ﷺ کی اتباع سے الگ ہو کر دعوی کیا جائے لیکن ایسا شخص جو ایک طرف اس کو خدا تعالیٰ اس کی وحی میں امتی بھی قرار دیتا ہے پھر دوسری طرف اس کا نام نبی بھی رکھتا ہے یہ دعوی قرآن شریف کے احکام کے مخالف نہیں ہے کیونکہ یہ نبوت بباعث امتی ہونے کے دراصل آنحضرت ﷺ عروسه کی نبوت کا ایک ظل ہے کوئی مستقل مستقل نبوت نبوت نہ نہیں ہے۔ صلى الله عروسه (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۵۲٬۳۵۱) یا د رکھنا چاہئے کہ مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے یہ ہم پر افترائے عظیم ہے ۔ ہم جس قوت یقین معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں اس کا لاکھواں حصہ بھی وہ نہیں مانتے اور ان کا ایسا ظرف ہی نہیں ہے۔ وہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت میں ہے سمجھتے ہی نہیں ہیں ۔ انہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سنا ہوا ہے اور اس کی حقیقت سے بے خبر ہیں ۔ وہ نہیں جانتے کہ ختم نبوت کیا ہوتا ہے اور اس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا ؟ مگر ہم بصیرت تام سے ( جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ) آنحضرت رت علی علی کو کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ہم پر صلى الله ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے کہ اس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا بجز ان لوگوں کے جو اس چشمہ سے سیراب ہوں ۔ دنیا کی مثالوں میں سے ہم ختم نبوت کی مثال اس طرح پر دے سکتے ہیں کہ جیسے چاند ہلال سے شروع ہوتا ہے اور چودھویں تاریخ پر آ کر اس کا کمال ہو جاتا ہے جبکہ اسے بدر کہا جاتا ہے۔ اسی طرح پر آنحضرت پر آ کر کمالا۔ کر کمالات نبوت ختم ہو گئے ۔ جو یہ مذہب رکھتے ہیں کہ نبوت زبر دستی ختم ہو گئی اور صلى الله آنحضرت کو یونس بن متی پر بھی ترجیح نہیں دینی چاہئے ۔ انہوں نے اس حقیقت کو سمجھا ہی نہیں اور ت کا کوئی علم ہی ان کو نہیں ہے۔ باوجود اس کمزوری فہم اور کمی علم صلى الله علی آنحضرت کے فضائل اور کمالات کا