حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 666
۶۶۶ جب خدا تعالیٰ کا ارادہ کسی بات کے کرنے کے لئے توجہ فرماتا ہے تو سنت اللہ یہ ہے کہ اس کا کوئی مخلص بندہ اضطرار اور کرب اور قلق کے ساتھ دعا کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے اور اپنی تمام ہمت اور تمام توجہ اس امر کے ہو جانے کے لئے مصروف کرتا ہے۔ تب اس مرد فانی کی دعائیں فیوض الہی کو آسمان سے کھینچتی ہیں اور خدا تعالیٰ ایسے نئے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن سے کام بن جائے۔ یہ دعا اگر چہ بعالم ظاہر انسان کے ہاتھوں سے ہوتی ہے مگر در حقیقت وہ انسان خدا میں فانی ہوتا ہے۔ اور دعا کرنے کے وقت میں حضرت احدیت و جلال میں ایسے فنا کے قدم سے آتا ہے کہ اس وقت وہ ہاتھ اس کا ہاتھ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ یہی دعا ہے جس سے خدا پہچانا جاتا ہے اور اس ذوالجلال کی ہستی کا پتہ لگتا ہے جو ہزاروں پردوں میں مخفی ہے۔ ایام الصلح ۔ روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۳۸، ۲۳۹) نادان خیال کرتا ہے کہ دعا ایک لغو اور بے ہودہ امر ہے مگر اسے معلوم نہیں کہ صرف ایک دعا ہی ہے جس سے خداوند ذوالجلال ڈھونڈ نے والوں پر تجلی کرتا ہے اور اَنَا الْقَادِرُ کا الہام ان کے دلوں پر ڈالتا ہے ہر ایک یقین کا بھوکا اور پیاسا یا د رکھے کہ اس زندگی میں روحانی روشنی کے طالب کے لئے صرف دعا ہی ایک ذریعہ ہے جو خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین بخشا اور تمام شکوک و شبہات دور کر دیتا ہے۔ ایام الصلح - روحانی خزائن جلد جلد ۱۴ ۱۴ صفحه ۲۴۰،۲۳۹) یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ دعا جو خدا تعالیٰ کی پاک کلام نے مسلمانوں پر فرض کی ہے اس کی فرضیت کے چار سبب ہیں ۔ (۱) ایک یہ کہ تا ہر ایک وقت اور ہر ایک حالت میں خدا تعالیٰ کی طرف رجوع ہو کر توحید پر پختگی حاصل ہو۔ کیونکہ خدا سے مانگنا اس بات کا اقرار کرنا ہے کہ مرادوں کا دینے والا صرف خدا ہے (۲) دوسرے یہ کہ تا دعا کے قبول ہونے اور مراد کے ملنے پر ایمان قوی ہو۔ (۳) تیسرے یہ کہ اگر کسی اور رنگ میں عنایت الہی شاملِ حال ہو تو علم اور حکمت زیادت پکڑے (۴) چوتھے یہ کہ اگر دعا کی قبولیت کا الہام اور رویا کے ساتھ وعدہ دیا جائے اور اُسی طرح ظہور میں آوے تو معرفت الہی ترقی کرے اور معرفت سے یقین اور یقین سے محبت اور محبت سے ہر ایک گناہ اور غیر اللہ سے انقطاع حاصل ہو جو حقیقی نجات کا ثمرہ ہے۔ ایام یام الصلح اسح - - روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۴۲) سورۃ فاتحہ میں جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ مسلمانوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ دعا میں مشغول