حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 665
۶۶۵ کریں بلکہ دعا کے ذریعہ سے تدابیر کو تلاش کریں۔ غرض دعا اور تدبیر انسانی طبیعت کے دو طبعی تقاضے ہیں کہ جو قدیم سے ا سے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا ہے دو حقیقی بھا اہوا ہے دو حقیقی بھائیوں کی طرح انسانی فطرت کے خادم چلے آئے ہیں ۔ اور تدبیر دُعا کے لئے بطور نتیجہ ضروریہ کے اور دُعا تدبیر کے لئے بطور محرک اور جاذب کے ہے اور انسان کی سعادت اسی میں ہے کہ وہ تدبیر کرنے سے پہلے دعا کے ساتھ مبدء فیض سے مدد مبدوف طلب کرے تا اس چشمہ لازوال سے روشنی پا کر عمدہ تدبیریں میسر آ سکیں۔ ایام الصلح - روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۳۰ تا ۲۳۲) جو شخص مشکل اور مصیبت کے وقت خدا سے دعا کرتا اور اس سے حل مشکلات چاہتا ہے۔ وہ بشرطیکہ دعا کو کمال تک پہنچاوے خدا تعالیٰ سے اطمینان اور حقیقی خوشحالی پاتا ہے اور اگر بالفرض وہ مطلب اس کو نہ ملے تب بھی کسی اور قسم کی تسلی اور سکینت خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کو عنایت ہوتی ہے اور وہ ہرگز ہرگز نامراد نہیں رہتا اور علاوہ کامیابی کے ایمانی قوت اس کی ترقی پکڑتی ہے اور یقین بڑھتا ہے۔ لیکن جو شخص دعا کے ساتھ خدا تعا اتعالیٰ کی طرف منہ نہیں کرتا وہ ہمیشہ اندھا رہتا اور اندھا مرتا ہے۔۔۔ جوشخص روح کی سچائی سے دُعا کرتا ہے وہ ممکن نہیں کہ حقیقی طور پر نامراد رہ سکے بلکہ وہ خوشحالی جو نہ صرف دولت سے مل سکتی ہے اور نہ حکومت سے اور نہ صحت سے بلکہ خدا کے ہاتھ میں ہے جس پیرا یہ میں چاہے وہ عنایت کر سکتا ہے۔ ہاں وہ کامل دعاؤں سے عنایت کی جاتی ہے۔ اگر خدا تعالیٰ چاہتا ہے تو ایک مخلص صادق کو عین مصیبت کے وقت میں دُعا کے بعد وہ لذت حاصل ہو جاتی ہے جو ایک شہنشاہ کو تخت شاہی پر حاصل نہیں ہو سکتی سو اسی کا نام حقیقی مراد یابی ہے جو آخر دعا کرنے والوں کو ملتی ہے۔ ایام اصلح ۔ روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۳۷) کیا یہ تسلی بخش ثبوت نہیں ہے کہ قدیم سے خدا تعالیٰ کا ایک روحانی قانون قدرت ہے کہ دُعا پر حضرت احدیت کی توجہ جوش مارتی ہے اور سکینت اور اطمینان اور حقیقی خوشحالی ملتی ہے۔ اگر ہم ایک مقصد کی طلب میں غلطی پر نہ ہوں تو وہی مقصد مل جاتا ہے اور اگر ہم اس خطا کار بچہ کی طرح جو اپنی ماں سے سانپ یا آگ کا ٹکڑہ مانگتا ہے اپنی دُعا اور سوال میں غلطی پر ہوں تو خدا تعالیٰ وہ چیز جو ہمارے لئے بہتر ہو عطا کرتا ہے اور باایں ہمہ دونوں صورتوں میں ہمارے ایمان کو بھی ترقی دیتا ہے کیونکہ ہم دُعا کے ذریعہ سے پیش از پیش از وقت خدا تعالیٰ سے علم پاتے ہیں اور ایسا یقین بڑھتا ہے کہ گویا ہم اپنے خدا کو دیکھ لیتے ہیں اور دعا اور استجابت میں ایک رشتہ ہے کہ ابتدا سے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا برابر چلا آتا ہے ۔