حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 599 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 599

۵۹۹ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ لا یعنی میں نے تمام عالموں کے لئے تجھے رحمت کر کے بھیجا ہے اور پھر فرماتا ہے لِيَكُونَ لِلْعَلَمِينَ نَذِيرًا کے یعنی ہم نے اس لئے بھیجا ہے کہ تمام دنیا کو ڈراوے لیکن ہم بڑے زور سے کہتے ہیں کہ قرآن شریف سے پہلے دنیا کی کسی الہامی کتاب نے یہ دعوی نہیں کیا بلکہ ہر ایک شریف سے پہلے یہ ہر نے اپنی رسالت کو اپنی قوم تک ہی محدود رکھا یہاں تک کہ جس نبی کو عیسائیوں نے خدا قرار دیا اس کے منہ سے بھی یہی نکلا کہ میں اسرائیل کی بھیڑوں کے سوا اور کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا اور زمانہ کے حالات نے بھی گواہی دی کہ قرآن شریف کا یہ دعوی تبلیغ عام کا عین موقع پر ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت تبلیغ عام کا دروازہ کھل گیا تھا۔ (چشمہ معرفت - روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۷۴ تا ۷ ) قرآن شریف میں یہ وعدہ تھا کہ خدا تعالیٰ فتنوں اور خطرات کے وقت میں دین اسلام کی حفاظت کرے گا جیسا کہ وہ فرماتا ہے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحٰفِظُونَ سے سو خدا تعالیٰ نے بموجب اس وعدہ کے چار قسم کی حفاظت اپنے کلام کی کی۔ اوّل حافظوں کے ذریعہ سے اس کے الفاظ اور ترتیب کو محفوظ رکھا اور ہر ایک صدی میں لاکھوں ایسے انسان پیدا کئے جو اس کی پاک کلام کو اپنے سینوں میں حفظ رکھتے ہیں ۔ ایسا حفظ کہ اگر ایک لفظ پوچھا جائے تو اس کا اگلا پچھلا سب بتا سکتے ہیں۔ اور اس طرح پر قرآن کو تحریف لفظی سے ہر ایک زمانہ میں بچایا۔ دوسرے ایسے ائمہ اور اکابر کے ذریعہ سے جن کو ہر ایک صدی میں فہم قرآن عطا ہوا ہے۔ جنہوں نے قرآن شریف کے اجمالی مقامات کی احادیث نبویہ کی مدد سے تفسیر کر کے خدا کی پاک کلام اور پاک تعلیم کو ہر ایک زمانہ میں تحریف معنوی سے محفوظ رکھا تیسرے متکلمین کے ذریعہ سے جنہوں نے قرآنی تعلیمات کو عقل کے ساتھ تطبیق دے کر خدا کی پاک کلام کو کو تہ اندیش فلسفیوں کے استخفاف سے بچایا ہے۔ چوتھے روحانی انعام پانے والوں کے ذریعہ سے جنہوں نے خدا کی پاک کلام کو ہر ایک زمانہ میں معجزات اور معارف کے منکروں کے حملہ ایام اصلح ۔ روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۸۸ ) سے بچایا ہے۔ شاید اس جگہ کسی کے دل میں یہ وسوسہ اُٹھے کہ مسلمانوں کا بھی یہی اعتقاد ہے کہ وحی حضرت آدم سے شروع ہوئی اور آ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پرختم ہوگئی ۔ سو اس عقیدہ کے رو سے بھی بعد ز بعد زمانہ حضرت زمانہ خاتم الانبیاء کے انقطاع وحی کا ہمیشہ کے لئے لازم آیا۔ سو اس کے جواب میں یاد رکھنا چاہیئے کہ ہمارا ہندوؤں کی طرح ہرگز یہ اعتقاد نہیں جو خدا کے پاس اتنی ہی کلام تھی جتنی وہ ظاہر کر چکا بلکہ بموجب ا الانبياء : ١٠٨ الفرقان : ٢ الحجر : ١٠