حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 598 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 598

۵۹۸ دور دراز مسافتوں کے ایک قوم دوسری قوم کے حالات سے بالکل بے خبر ہوگئی ایسے زمانوں میں خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت نے تقاضا فرمایا کہ ہر ایک قوم کے لئے جدا جدا رسول اور الہامی کتابیں دی جائیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور پھر جب نوع انسان نے دنیا کی آبادی میں ترقی کی اور ملاقات کے لئے راہ کھل گئی اور ایک ملک کے لوگوں کو دوسرے ملک کے لوگوں کے ساتھ ملاقات کرنے کے لئے سامان میسر آگئے اور اس بات کا علم ہو گیا کہ فلاں فلاں حصہ زمین پر نوع انسان رہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ ان سب کو پھر دوبارہ ایک قوم کی طرح بنا دیا جائے اور بعد تفرقہ کے پھر ان کو جمع کیا جاوے تب خدا نے تمام ملکوں کے لئے ایک کتاب بھیجی اور اس کتاب میں حکم فرمایا کہ جس جس زمانہ میں یہ کتاب مختلف ممالک میں پہنچے ان کا فرض ہو گا کہ ان کو قبول کر لیں اور اُس پر ایمان لاویں اور وہ کتاب قرآن شریف ہے جو تمام ملکوں کا باہمی رشتہ قائم کرنے کے لئے آئی ہے۔ قرآن سے پہلی سب کتابیں مختص القوم کہلاتی تھیں یعنی صرف ایک قوم کے لئے ہی آتی تھیں۔ چنانچہ شامی فارسی ہندی چینی مصری رومی یہ سب قو میں تھیں جن کے لئے جو کتابیں یا رسول آئے وہ صرف اپنی قوم تک محدود تھے دوسری قوم سے اُن کو کچھ تعلق اور واسطہ نہ تھا۔ مگر سب کے بعد قرآن شریف آیا جو ایک عالمگیر کتاب ہے۔ اور کسی خاص قوم کے لئے نہیں بلکہ تمام قوموں کے لئے ہے۔ ایسا ہی قرآن شریف ایک ایسی اُمت کے لئے آیا جو آہستہ آہستہ ایک ہی قوم بننا چاہتی تھی ۔ سواب زمانہ کے لئے ایسے سامان میسر آگئے ہیں جو مختلف قوموں کو وحدت کا رنگ بخشتے جاتے ہیں۔ باہمی ملاقات جو اصل جڑ ایک قوم بننے کی ہے ایسی سہل ہو گئی ہے کہ برسوں کی راہ چند دنوں میں طے ہو سکتی ہے اور پیغام رسانی کے لئے وہ سبیلیں پیدا ہو گئی ہیں کہ جو ایک برس میں بھی کسی دور دراز ملک کی خبر نہیں آ سکتی تھی۔ وہ اب ایک ساعت میں آ سکتی ہے۔ زمانہ میں ایک ایسا لاب عظیم پیدا ہو رہا ہے اور تمدنی دریا کی دھار نے ایک ایسی طرف رُخ کر لیا ہے جس سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ اب خدا تعالیٰ کا یہی ارادہ ہے کہ تمام قوموں کو جو دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں ایک قوم بنا انقلاب ۔ دے۔ اور ہزار ہا برسوں ۔ کے بچھڑے ہوؤں کو پھر باہم ملا دے۔ اور یہ خبر قرآن شریف میں موجود ہے اور قرآن شریف نے ہی کھلے طور پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ دنیا کی تمام قوموں کے لئے آیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے ۔ قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ۔ یعنی تمام لوگوں کو کہہ دے کہ میں تم سب کے لئے رسول ہو کر آیا ہوں ۔ اور پھر فرماتا ہے وَمَا أَرْسَلْتُكَ الاعراف : ۱۵۹