حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 584
۵۸۴ اور عالم کے ابتداء کا حال بیان فرماتا ہے اور جو دائرہ عالم میں داخل ہو چکا اس کو مخلوق ٹھہراتا ہے۔ اور ان امور کے جو لوگ مخالف ہیں اُن کا کذب ثابت کرتا ہے سو یہ مقصد رَبِّ الْعَلَمِينَ میں بطور اجمال آ گیا۔ تیسرا مقصد قرآن شریف کا خدا کا فیضان بلا استحقاق ثابت کرنا اور اس کی رحمتِ عامہ کا بیان کرنا ہے سو یہ مقصد لفظ رحمن میں بطور ا جمال آ گیا۔ چوتھا مقصد قرآن شریف کا خدا کا وہ فیضان ثابت کرنا ہے جو محنت اور کوشش پر مترتب ہوتا ہے سو یہ مقصد لفظ رحیم میں آ گیا۔ پانچواں مقصد قرآن شریف کا عالم معاد کی حقیقت بیان کرنا ہے سو یہ مقصد ملِكِ يَوْمِ الدین میں آگیا ۔ چھٹا مقصد قرآن شریف کا اخلاص اور عبودیت اور تزکیہ نفس عن غیر اللہ اور علاج امراض روحانی اور اصلاح اخلاق رڈیہ اور توحید فی العبادت کا بیان کرنا ہے سو یہ مقصد إِيَّاكَ نَعْبُدُ میں بطور اجمال آگیا۔ ساتواں مقصد قرآن شریف کا ہر ایک کام میں فاعل حقیقی خدا کو ٹھہرانا اور تمام توفیق اور لطف اور نصرت اور ثبات علی الطاعت اور عصمت عن العصیان اور حصول جميع اسباب خیر اور صلاحیت دنیا و دین اُسی کی طرف سے قرار دینا اور ان تمام امور میں اُسی سے مدد چاہنے کے لئے تاکید کرنا سو یہ مقصد إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں بطور اجمال آگیا۔ آٹھواں مقصد قرآن شریف کا صراط مستقیم کے دقائق کو بیان کرنا ہے اور پھر اس کی طلب کے لئے تاکید کرنا کہ دعا اور تضرع سے اُس کو طلب کریں سو یہ مقصد اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں بطور اجمال کے آگیا۔ نواں مقصد قرآن شریف کا ان لوگوں کا طریق و خلق بیان کرنا ہے جن پر خدا کا انعام وفضل ہوا تا طالبین حق کے دل جمعیت پکڑیں ۔ سو یہ مقصد صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں آگیا۔ دسوان مقصد قرآن شریف کا اُن لوگوں کا خلق و طریق بیان کرنا ہے جن پر خدا کا غضب ہوا یا جو راستہ بھول کر انواع اقسام کی بدعتوں میں پڑ گئے تا حق کے طالب ان کی راہوں سے ڈریں سو یہ مقصد غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ میں بطور اجمال آ گیا ہے۔