حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 583
۵۸۳ اور اپنے خدا پر تو گل کر کے جس کے انوار دن رات دیکھ رہا ہے اس بات کا ذمہ دار بنتا ہے کہ اگر تم دلی صدق اور صفائی سے حق کے جو یاں اور خواہاں ہو کر صبر اور ارادت سے کچھ مدت تک اس احقر کی صحبت میں زندگی بسر کرو گے تو یہ بات تم پر بدیہی طور پر کھل جائے گی کہ فی الحقیقت وہ خواص روحانی جن کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے سورۃ فاتحہ اور قرآن شریف میں پائے جاتے ہیں۔ سو کیا مبارک وہ شخص ہے کہ جو اپنے دل کو تعصب اور عناد سے خالی کر کے اور اسلام کے قبول کرنے پر مستعد ہو کر اس مطلب کے حصول کے لئے بصدق وارادت توجہ کرے ۔ اور کیا بد قسمت وہ آدمی ہے کہ اس قدر واشگاف باتیں سن کر پھر بھی نظر اٹھا کر نہ دیکھے اور دیدہ و دانستہ خدائے تعالیٰ کی لعنت اور غضب کا مورد بن جاوے۔ مرگ نہایت نزدیک ہے اور بازی اجل سر پر ہے۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۲۶ تا ۶۳۵ حاشیہ نمبر ۱۱) سورۃ فاتحہ مجمل طور پر تمام مقاصد قرآن شریف پر مشتمل ہے گویا یہ سورۃ مقاصد قرآنیہ کا ایک ایجاز لطیف ہے۔ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ۔ وَلَقَدْ آتَيْنَكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ ہے یعنی ہم نے تجھے اے رسول سات آیتیں سورۃ فاتحہ کی عطا کی ہیں جو مجمل طور پر تمام مقاصد قرآنیہ پر مشتمل ہیں اور ان کے مقابلہ پر قرآن عظیم بھی عطا فرمایا ہے جو مفصل طور پر مقاصد دینیہ کو ظاہر کرتا ہے۔ اور اسی جہت سے اس سورۃ کا نام ام الکتاب اور سورۃ الجامع ہے ام الکتاب اس جہت سے کہ جمیع مقاصد قرآنیہ اس سے مستخرج ہوتے ہیں اور سورۃ الجامع اس جہت سے کہ علوم قرآنیہ کے جمیع انواع پر بصورت اجمالی مشتمل ہے۔ اسی جہت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ جس نے سورۃ فاتحہ کو پڑھا گویا اُس نے سارے قرآن کو پڑھ لیا۔ غرض قرآن شریف اور احادیث نبوی سے ثابت ہے کہ سورۃ فاتحہ ممدوحہ ایک آئینہ قرآن نما ہے۔ اس کی تصریح یہ ہے کہ قرآن شریف کے مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ وہ تمام محامد کاملہ باری تعالیٰ کو بیان کرتا ہے ۔ اور اس کی ذات کے لئے جو کمال تام حاصل ہے اس کو بوضاحت بیان فرماتا ہے۔ سو یہ مقصد الْحَمْدُ لِلَّهِ میں بطور اجمال آ گیا کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ تمام محامد کاملہ اللہ کے لئے ثابت ہیں جو تجمع جمیع کمالات اور مستحق جميع عبادات ہے ۔ دوسرا مقصد قرآن شریف کا یہ ہے کہ وہ خدا کا صانع کامل ہونا اور خالق العالمین ہونا ظاہر کرتا ہے ا الحجر : ٨٨