حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 450
کرتا رہتا ہے ۔ اس لئے جیسے محمد محبوبانہ شان میں جلال اور کبریائی کو چاہتا ہے اسی طرح پر احمد عاشقانہ شان میں ہو کر غربت اور انکساری کو چاہتا ہے۔ اس میں ایک سر یہ تھا کہ آپ کی زندگی کی تقسیم دو حصوں میں یہ کی دوج پر کر دی گئی ۔ ایک تو مکی زندگی جو ۱۳ برس کے زمانہ کی ہے اور دوسری وہ زندگی جو مدنی زندگی ہے اور وہ دس برس کی ہے۔ مکہ کی زندگی میں اسم احمد کی تجلی تھی ۔ اس وقت آپ کے دن رات خدا تعالیٰ کے حضور گریہ و بکا اور طلب استعانت اور دعا میں گزرتی تھی ۔ اگر کوئی شخص آپ کی اس زندگی کے بسر اوقات پر پوری اطلاع رکھتا ہو تو اُسے معلوم ہو جائے گا کہ جو تضرع اور زاری آپ نے اس مکی زندگی میں کی ہے وہ کبھی کسی عاشق نے اپنے محبوب و معشوق کی تلاش میں کبھی نہیں کی اور نہ کر سکے گا۔ پھر آپ کی تضرع اپنے لئے نہ تھی بلکہ یہ تضرع دنیا کی حالت کی پوری واقفیت کی وجہ سے تھی ۔ خدا پرستی کا نام ونشان چونکہ مٹ چکا تھا اور آپ کی روح اور خمیر میں اللہ تعالیٰ میں ایمان رکھ کر ایک لذت اور ایک سرور آچکا تھا اور فطرتا دنیا کو اس لذت اور محبت سے سرشار کرنا سے سرشار کرنا چاہتے تھے ۔ ادھر دنیا کی حالت کو دیکھتے تھے تو اُن کی استعدادیں اور فطرتیں عجیب طرز پر واقع ہو چکی تھیں اور بڑے مشکلات اور مصائب کا سامنا تھا۔ غرض دنیا کی اس حالت پر آپ گریہ وزاری کرتے تھے اور یہاں تک کرتے تھے کہ قریب تھا کہ جان نکل جاتی ۔ اسی کی طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ ہے یہ آپ کی متضرعا نہ زندگی تھی اور اسم احمد کا ظہور تھا اُس وقت آپ ایک عظیم الشان توجہ میں پڑے ہوئے تھے۔ اس توجہ کا ظہور مدنی زندگی اور اسم محمد کی تجلی کے وقت ہوا جیسا کہ اس آیت سے پتہ لتا ہے۔ وَاسْتَفْتَحُوا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ (الحکم ۱۷ جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۴ ۔ ملفوظات جلد اول صفحه ۴۲۳ جدید ایڈیشن) جو شخص قرآن کریم کی اسالیب کلام کو بخوبی جانتا ہے اس پر یہ پوشیدہ نہیں کہ بعض اوقات وہ کریم و رحیم جل شانہ اپنے خواص عباد کے لئے ایسا لفظ استعمال کر دیتا ہے کہ بظاہر بدنما ہوتا ہے مگر معنا نہایت محمود اور تعریف کا کلمہ ہوتا ہے ۔ جیسا کہ اللہ جل شانہ نے اپنے نبی کریم کے حق میں فرمایا۔ وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدى سے اب ظاہر ہے کہ ضال کے معنے مشہور اور متعارف جواہلِ لغت کے ہی منہ پر چڑھے ہوئے ہیں گمراہ کے ہیں ۔ جس کے اعتبار سے آیت کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے (اے رسول اللہ ) تجھ کو گمراہ پایا اور ہدایت دی حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی گمراہ نہیں ہوئے اور ل الشعراء : ابراهيم : ١٦ الضحى : 8 لده۔