حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 449
۴۴۹ نہیں لائے گا اور اندر ہی اندر جل جائے گا اور پھول بھی نہیں آئیں گے بلکہ اس کے سرسبز اور نرم نرم لہلہاتے ہوئے پتے چند روز ہی میں خشک ہو کر گر جائیں گے اور خشکی غالب ہو کر مجزوم کی طرح آہستہ آہستہ اس کے تمام اعضاء گر نے شروع ہو جائیں گے۔ یہ تمام بلائیں کیوں اس پر نازل ہوں گی؟ اس وجہ سے کہ وہ پانی جو اس کی زندگی کا مدار تھا اس نے اس کو سیراب نہیں کیا۔ اسی کی طرف اشارہ ہے جو الله جل شانہ فرماتا ہے كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَة لے یعنی پاک کلمہ پاک درخت کی مانند ہے۔ پس جیسا کہ کوئی عمدہ اور شریف درخت بغیر پانی کے نشو ونما نہیں کر سکتا اسی طرح راستباز انسان کے کلمات طیبہ جو اس کے منہ سے نکلتے ہیں اپنی پوری سرسبزی دکھلا نہیں سکتے اور نہ نشو و نما کر سکتے ہیں جب تک وہ پاک چشمہ اُن کی جڑھوں کو استغفار کے نالے میں بہہ کر تر نہ کرے۔ سوانسان کی روحانی زندگی استغفار سے ہے جس کے نالے میں ہو کر حقیقی چشمہ انسانیت کی جڑھوں تک پہونچتا ہے اور خشک ہونے اور مرنے سے بچا لیتا ہے۔ جس مذہب میں اس فلسفہ کا ذکر نہیں وہ مذہب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہرگز نہیں اور جس شخص نے نبی یا رسول یا راستباز یا پاک فطرت کہلا کر اس چشمہ سے منہ پھیرا ہے وہ ہرگز خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ اور ایسا آدمی خدا تعالیٰ سے نہیں بلکہ شیطان سے نکلا ہے کیونکہ شیط مرنے کو کہتے ہیں۔ پس جس نے اپنے روحانی باغ کو سر سبز کرنے کے لئے اُس حقیقی چشمہ کو اپنی طرف کھینچنا نہیں چاہا اور استغفار کے نالے کو اس چشمہ سے لبالب نہیں کیا وہ شیطان ہے یعنی مرنے والا ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ کوئی سرسبز درخت بغیر پانی کے زندہ رہ سکے۔ ہر یک متکبر جو اس زندگی کے چشمہ سے اپنے روحانی درخت کو سر سبز کرنا نہیں چاہتا وہ شیطان ہے اور شیطان کی طرح ہلاک ہو گا۔ کوئی راستباز نبی دنیا میں نہیں آیا جس نے استغفار کی حقیقت سے منہ پھیرا اور اس حقیقی چشمہ سے سرسبز ہونا نہ چاہا۔ ہاں سب سے زیادہ اس سرسبزی کو ہمارے سید و مولی ختم المرسلین فخر الاولین والآخرین محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگا اس لئے خدا نے اس کو اس کے تمام ہم منصبوں سے زیادہ سرسبز اور معطر کیا۔ نور القرآن نمبرا - روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۵۶ تا ۳۵۸) آپ کے مبارک ناموں میں ایک ستر یہ ہے کہ محمد اور احمد جو دو نام ہیں اُن میں دو جُدا جُدا کمال ہیں۔ محمد کا نام جلال اور کبریائی کو چاہتا ہے جو نہایت درجہ تعریف کیا گیا ہے اور اس میں ایک معشوقانہ رنگ ہے کیونکہ معشوق کی تعریف کی جاتی ہے۔ پس اس میں جلالی رنگ ہونا ضروری ہے۔ مگر احمد کا نام اپنے اندر عاشقانہ رنگ رکھتا ہے کیونکہ تعریف کرنا عاشق کا کام ہے۔ وہ اپنے محبوب اور معشوق کی تعریف ابراهیم : ۲۵