حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 405 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 405

۴۰۵ لیتا ہے اور صرف الہام اور خواب کا پانا کسی خوبی اور کمال پر دلالت نہیں کرتا جب تک کسی نفس کو بوجہ تزکیہ نام کے یہ انعکاسی حالت نصیب نہ ہو اور محبوب حقیقی کا چہرہ اس کے نفس میں نمودار نہ ہو جائے۔ (حقیقة الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۲ تا ۲۶) تین قسمیں خوابوں کی ہوتی ہیں ایک نفسانی اور ایک شیطانی اور ایک رحمانی۔ نفسانی جیسے بلی کو چھیچھڑوں کے خواب، شیطانی وہ جس میں ڈرانا اور وحشت ہو ۔ رحمانی خواب خدا کی طرف سے پیغام ہوتے ہیں۔ اور اُن کا ثبوت صرف تجربہ ہے اور یہ خدا کی باتیں ہیں جو کہ اس دنیا سے بہت دور تر ہیں ۔ اگر ہم ان کے متعلق عقلی دلائل پر توجہ کریں تو ریں تو نہ دوسرا اون سے سمجھ سکتا ہے نہ ہم سمجھا سکتے ہیں ۔ یہ خدا کی ہستی کے نشان ہیں جو وہ غیب سے دل پر ڈالتا ہے اور جب دیکھ لیتے ہیں کہ ایک بات بتلائی گئی اور وہ پوری ہوئی تو پھر اس پر خود ہی اعتبار ہو جاتا ہے۔ اس عالم کے امور کا جو آلہ ہے وہ اسے شناخت نہیں کر سکتا یہ روحانی امور ہیں انہی سے ان کو پہچانا جاوے تو سمجھ آتی ہے اور خواب اپنی صداقت پر آپ ہی گواہی دیتے ہیں ۔ البدر مورخه ۲۳ تا ۳۰ جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۳ کالم نمبر ۳ - ملفوظات جلد دوم صفحہ ۶۵۴ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) کشف اور خواب بھی ہر ایک کے یکساں نہیں ہوتے ۔ وہ کامل کشف جس کو قرآن شریف میں اظہار علی الغیب سے تعبیر کیا گیا ہے جو دائرہ کی طرح پورے علم پر مشتمل ہوتا ہے وہ ہر ایک کو عطا نہیں کیا جاتا صرف برگزیدوں کو دیا جاتا ہے۔ اور ناقصوں کا کشف اور الہام ناقص ہوتا ہے جو بالآخر ان کو بہت شرمندہ کرتا ہے۔ اظہار علی الغیب کی حقیقت یہ ہے کہ جیسے کوئی اونچے مکان پر چڑھ کر ارد گرد کی چیزوں کو دیکھتا ہے تو بلاشبہ آسانی سے ہر ایک چیز اس کو نظر آ سکتی ہے لیکن جو شخص نشیب کے مکان سے ایسی چیزوں کو دیکھنا چاہتا ہے تو بہت سی چیزیں دیکھنے سے رہ جاتی ہیں۔ اور برگزیدوں سے خدا کی یہ عادت ہے کہ ان کی نظر کو اونچے مکان تک لے جاتا ہے تب وہ آسانی سے ہر ایک چیز کو دیکھ سکتے ہیں اور انجام کی خبر دیتے ہیں۔ اور نشیب کا آدمی انجام کی خبر نہیں دے سکتا۔ اس لئے بلعم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پہچاننے میں دھوکہ کھایا اور اس کو اُن کا وہ عالی مرتبہ برگزیدگی کا معلوم نہ ہو سکا جس سے ڈر کر وہ ادب اختیار کرتا ۔ (حقیقۃ المہدی۔ روحانی خزائن جلد ۴ ۱ صفحه ۴۴۲ ۴۴۳) یہ بات یا د رکھنی چاہئے کہ وحی دو قسم کی ہے وحی الابتلاء اور وحی الاصطفاء، وحی الابتلاء بعض اوقات