حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 404
لده لد خوابوں اور الہاموں میں اُن کے شریک ہوتے ہیں ۔۔۔ پھر دوسری قسم کے خواب بین یا مہم وہ لوگ ہیں جن کو خدا تعالیٰ سے کسی قدر تعلق ہے مگر کامل تعلق نہیں ۔ ان لوگوں کی خوابوں یا الہاموں کی قدر ہے حالت اس جسمانی نظارہ سے مشابہ ہے جبکہ ایک شخص اندھیری رات اور شَدِيدُ الْبَرد رات میں دُور سے ایک آگ کی روشنی دیکھتا ہے۔ اس کے دیکھنے سے اتنا فائدہ تو اسے حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ ایسی راہ پر چلنے سے پر ہیز کرتا ہے جس میں بہت سے گڑھے اور کانٹے اور پتھر اور سانپ اور درندے ہیں ۔ مگر اس قدر روشنی اس کو سردی اور ہلاکت سے بچا نہیں سکتی۔ پس اگر وہ آگ کے گرم حلقہ تک پہنچ نہ سکے تو وہ بھی ایسا ہی ہلاک ہو جاتا ہے جیسا کہ اندھیرے میں چلنے والا ہلاک ہو جاتا ہے۔ پھر تیسری قسم کے ملہم اور خواب بین وہ لوگ ہیں جن کے خوابوں اور الہاموں کی حالت اُس جسمانی نظارہ سے مشابہ ہے جبکہ ایک شخص اندھیری اور شَدِيدُ الْبَرد رات میں نہ صرف آگ کی کامل روشنی ہی پاتا ہے اور اُس میں چلتا ہے بلکہ اُس کے گرم حلقہ میں داخل ہو کر بکلی سردی کے ضرر سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اس مرتبہ تک وہ لوگ پہنچتے ہیں جو شہوات نے جو شہوات نفسانیہ کا چولہ آتش محبہ تش محبت الہی میں جلا دیتے ہیں ۔ اور خدا کے لئے تلخی کی زندگی اختیار کر لیتے ہیں ۔ وہ دیکھتے ہیں جو آگے موت ہے اور دوڑ کر اس موت کو اپنے لئے پسند کر لیتے ہیں۔ وہ ہر ایک درد کو خدا کی راہ میں قبول کرتے ہیں۔ اور خدا کے لئے اپنے نفس کے دشمن ہو کر اور اُس کے برخلاف قدم رکھ کر ایسی طاقت ایمانی دکھلاتے ہیں کہ فرشتے بھی اُن کے اس ایمان سے حیرت اور تعجب میں پڑ جاتے ہیں۔ وہ روحانی پہلوان ہوتے ہیں ۔ اور شیطان کے تمام حملے اُن کی روحانی قوت کے آگے بیچ ٹھیرتے ہیں ۔ ہم اس مرتبہ ثالثہ کی جو اعلیٰ اور اکمل مرتبہ ہے اس طرح پر تصویر کھنچتے ہیں کہ وہ وحی کامل جو اقسام ثلاثہ میں سے تیسری قسم کی وحی ہے جو کامل فرد پر نازل ہوتی ہے اُس کی یہ مثال ہے کہ جیسے سورج کی دھوپ اور شعاع ایک مصفی آئینہ پر پڑتی ہے جو عین اس کے مقابل پر پڑا ہے ۔ تب وہی شعاع ایک سے وہ چند ہو کر ظاہر ہوتی ہے جسے آنکھ بھی برداشت نہیں کر سکتی ۔ پس اسی طرح جب نفس تزکیہ یافتہ پر جو تمام کدورتوں سے پاک ہو جاتا ہے وحی نازل ہوتی ہے تو اس کا نور فوق العادت نمایاں ہوتا ہے اور اس نفس پر صفات الہیہ کا انعکاس پورے طور پر ہو جاتا ہے اور پورے طور پر چہرہ حضرت احدیت ظاہر ہوتا ہے۔ غرض وحی الہی کے انوار اکمل اور اقسم طور پر وہی نفس قبول کرتا ہے جو اکمل اور اتم طور پر تزکیہ حاصل کر