حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 344 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 344

۳۴۴ کو کوئی نمونہ نہیں دیا گیا تھا۔ پس ہم اس مخفی حقیقت کو کیونکر سمجھ سکتے ۔ اس لئے سنت اللہ قدیم سے اور جب سے دنیا کی بناء ڈالی گئی اس طرح پر جاری ہے کہ نمونہ کے طور پر عام لوگوں کو قطع نظر اس سے کہ وہ نیک ہوں یا بد ہوں اور صالح ہوں یا فاسق ہوں ۔ اور مذہب میں سچے ہوں یا جھوٹا مذہب رکھتے ہوں کسی قدر سچی خوابیں دکھلائی جاتی ہیں یا سچے الہام بھی دیئے جاتے ہیں تا ان کا قیاس اور گمان جو محض نقل اور سماع سے حاصل ہے علم الیقین تک پہونچ جائے اور تا روحانی ترقی کے لئے اُن کے ہاتھ میں کوئی نمونہ ہو اور حکیم مطلق نے اس مدعا کے پورا کرنے کے لئے انسانی دماغ کی بناوٹ ہی ایسی رکھی ہے اور ایسے روحانی قومی اس کو دیئے ہیں کہ وہ بعض سچی خوابیں دیکھ سکتا ہے اور بعض سچے الہام پا سکتا ہے مگر وہ سچی خوا ہیں اور سچے الہام کسی وجاہت اور بزرگی پر دلالت نہیں کرتے بلکہ وہ محض نمونہ کے طور پر ترقی کے لئے ایک راہیں ہوتی ہیں ۔ (حقیقة الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۸ تا ۱۰) جاننا چاہئے کہ دلیل دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک تھی اور تمی دلیل اس کو کہتے ہیں کہ دلیل سے مدلول کا پتہ لگا لیں جیسا کہ ہم نے ایک جگہ دُھواں دیکھا تو اس سے ہم نے آگ کا پتہ لگا لیا اور دوسری دلیل کی قسم انی ہے۔ اور انہی اس کو کہتے ہیں کہ مدلول سے ہم دلیل کی طرف انتقال کریں جیسا کہ ہم نے ایک شخص کو شدید تپ میں مبتلا پایا تو ہمیں یقین ہوا کہ اس میں ایک تیز صفرا موجود ہے جس سے تپ چڑھ گیا۔ سواس جگہ ہم انشاء اللہ تعالیٰ دونوں قسم کی دلیلیں پیش کریں گے۔ سو پہلے ہم لمی دلیل ضرورت الہام کے لئے پیش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ انسان کے جسم کا جسمانی اور روحانی نظام ایک ہی قانون قدرت کے ماتحت ہے پس اگر ہم انسان کے جسمانی حالات پر نظر ڈال کر دیکھیں تو ظاہر ہو گا کہ خدا وند کریم نے جس قدر انسان کے جسم کو خواہشیں لگا دی ہیں اُن کے پورا کرنے کے لئے بھی سامان مہیا کئے ہیں۔ چنانچہ انسان کا جسم بباعث بھوک کے اناج کا محتاج تھا سو اس کے لئے طرح طرح کی غذا ئیں پیدا کی ہیں۔ ایسا ہی انسان باعث پیاس کے پانی کا محتاج تھا ۔ سو اس کے لئے کنوئیں اور چشمے اور نہریں پیدا کر دیئے ہیں۔ اسی طرح انسان اپنی بصارت سے کام لینے کے لئے آفتاب یا کسی اور روشنی کا محتاج تھا سواس کے لئے خدا نے آسمان پر سورج اور زمین پر دوسری اقسام کی روشنی پیدا کر دی ہے اور انسان اس ضرورت کے لئے کہ سانس لے اور نیز اس ضرورت کے لئے کہ کسی دوسرے کی آواز کوسن سکے ہوا کا محتاج تھا سو اس