حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 343
۳۴۳ وہ خدا جو کریم و رحیم ہے جیسا کہ اس نے انسانی فطرت کو اپنی کامل معرفت کی بھوک اور پیاس لگا دی ہے ایسا ہی اس نے اس معرفت کاملہ تک پہنچانے کے لئے انسانی فطرت کو دو قسم کے قومی عنایت فرمائے ہیں۔ ایک معقولی قوتیں جن کا منبع دماغ ہے اور ایک روحانی قوتیں جن کا منبع دل ہے۔ اور جن کی صفائی دل کی صفائی پر موقوف ہے۔ اور جن باتوں کو معقولی قوتیں کامل طور پر دریافت نہیں کر سکتیں روحانی قوتیں اُن کی حقیقت تک پہونچ جاتی ہیں۔ اور روحانی قوتیں صرف انفعالی طاقت اپنے اندر رکھتی ہیں یعنی ایسی صفائی پیدا کرنا کہ مبدء فیض کے فیوض اُن میں منعکس ہوسکیں ۔ سو ان کے لئے یہ لازمی شرط ہے کہ حصول فیض کے لئے مستعد ہوں اور حجاب اور روک درمیان نہ ہو تا خدا تعالیٰ سے معرفت کاملہ کا فیض پاسکیں۔ اور صرف اس حد تک ان کی شناخت محدود نہ ہو کہ اس عالم پر حکمت کا کوئی صانع ہونا چاہئے بلکہ اس صانع سے شرف مکالمہ مخاطبہ کامل طور پر پاکر اور بلا واسطہ اس کے بزرگ نشان دیکھ کر اس کا چہرہ دیکھ لیں۔ اور یقین کی آنکھ سے مشاہدہ کر لیں کہ فی الحقیقت وہ صانع موجود ہے۔ لیکن چونکہ اکثر انسانی فطرتیں حجاب سے خالی نہیں اور دنیا کی محبت اور دنیا کے لالچ اور تکبر اور نخوت اور تُجب اور ریاء کاری اور نفس پرستی اور دوسرے اخلاقی رذائل اور حقوق اللہ اور حقوق عباد کی بجا آوری میں عمداً قصور اور تساہل اور شرائط صدق و ثبات اور دقائق محبت اور وفا سے عمداً انحراف اور خدا تعالیٰ سے عمداً قطع تعلق اکثر طبائع میں پایا جاتا ہے اس لئے وہ طبیعتیں بباعث طرح طرح کے حجابوں اور پردوں اور روکوں کے اور نفسانی خواہشوں اور شہوات کے اس لائق نہیں کہ قابل قدر فیضان مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ کا اُن پر نازل ہو جس میں قبولیت کے انوار کا کوئی حصہ ہو ۔ ہاں عنایت از لی نے جو انسانی فطرت کو ضائع کرنا نہیں چاہتی تخم ریزی کے طور پر اکثر انسانی افراد میں یہ عادت اپنی جاری کر رکھی ہے کہ کبھی کبھی سچی خوا ہیں یا سچے الہام ہو جاتے ہیں تا وہ معلوم کر سکیں کہ اُن کے لئے آگے قدم رکھنے کے لئے ایک راہ کھلی ہے۔ لیکن ان کی خوابوں اور الہاموں میں خدا کی قبولیت اور محبت اور فضل کے کچھ آثار نہیں ہوتے اور نہ ایسے لوگ نفسانی نجاستوں سے پاک ہوتے ہیں۔ اور خوا ہیں محض اس لئے آتی ہیں کہ تا ان پر خدا کے پاک نبیوں پر ایمان لانے کے لئے ایک محبت ہو۔ کیونکہ اگر وہ سچی خوابوں اور سچے الہامات کی حقیقت سمجھنے سے قطعا محروم ہوں اور اس بارے میں کوئی ایسا علم جس کو علم الیقین کہنا چاہئے اُن کو حاصل نہ ہو تو خدا تعالیٰ کے سامنے اُن کا عذر ہو سکتا ہے کہ وہ نبوت کی حقیقت کو سمجھ نہیں سکتے تھے۔ کیونکہ اس کوچہ سے بکلی نا آشنا تھے اور وہ کہہ سکتے ہیں کہ نبوت کی حقیقت سے ہم محض بے خبر تھے اور اس کے سمجھنے کے لئے ہماری فطرت