مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 563 of 632

مسیحی انفاس — Page 563

۵۶۳ عظمت کا اقرار کر کے زبور پینتالیس میں یوں بیان کیا ہے (۲) تو حسن میں بنی آدم سے کہیں زیادہ ہے۔ تیرے لبوں میں نعمت بتائی گئی ہے اسی ن لئے خدا نے تجھ کو ابد تک مبارک کیا۔ کو ابد تک مبارک کیا۔ - (۳) اے پہلوان تو جاہ و جلال سے اپنی تلوار حمائل کر کے اپنی ران پر لٹکا۔ ے تو و سے اپنی تلوار (۴) امانت اور علم اور عدالت پر اپنی بزرگواری اور اقبال مندی سے سوار ہو کہ تیرا داہنا ہاتھ تجھے ہیبت ناک کام دکھائے گا۔ (۵) بادشاہ کے دلوں میں تیرے تیر تیزی کرتے ہیں لوگ تیرے سامنے گر جاتے ہیں۔ (1) اے خدا تیرا تخت ابد الآباد ہے ( یہ فقرہ اسی مقام جمع سے ہے جو قرآن شریف میں کئی مقام میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بولا گیا ہے ) تیری سلطنت کا عصار استی کا عصا ہے۔ (۷) تو نے صدق سے دوستی اور شر سے دشمنی کی اسی لیئے خدا نے جو تیرا خدا ہے خوشی کے روغن سے تیرے مصاحبوں سے زیادہ تر تجھے معطر کیا۔ بادشاہوں کی بیٹیاں تیری عزت والی عورتوں میں ہیں۔ اسی طرح حضرت یسعیا نبی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالیت و عظمت و مظہر تمام الوہیت ہونے کے بارے میں اپنے صحیفہ کے باب بیالیس (۴۲) میں بطور پیش گوئی وحی پاکر یوں بیان کیا ہے۔ دیکھو میرا بندہ جسے میں سنبھالوں گا میرا بر گزیدہ پیش گوئی جس سے میرا جی راضی ہے۔ میں نے اپنی روح اس پر رکھی وہ قوموں پر راستی ظاہر کرے گا۔ وہ نہ گھٹے گا اور نہ تھکے گا جب تک راستی کو زمین پر قائم نہ کرے۔ بیابان اور اس کی بستیاں کیدار (یعنی عرب) کے آباد دیہات ( جس سے مکہ معظمہ وغیرہ مراد ہیں) اپنی آواز بلند کریں۔ خداوند ایک بہادر کی مانند نکلے گا۔ ( خداوند سے مراد ظلی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کیونکہ وہ مظہر اتم الوہیت اور درجہ سوم قرب پر ہیں جیسا کہ کئی دفعہ ہم بیان کر چکے ہیں) وہ اپنے تئیں اپنے دشمنوں پر قوی دکھلائے گا۔ قدیم سے میں خاموش رہا ہوں اور ستایا اور آپ کو رو کے گیا پر اب میں اس عورت کی طرح جو درد زہ میں ہو چلاؤں گا میں پہاڑوں اور ٹیلوں کو ویران کر ڈالوں گا۔ اور اندھوں کو اس راہ سے جسے وے نہیں جانتے لے جاؤں گا۔