مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 562 of 632

مسیحی انفاس — Page 562

۵۶۲ ان کا آنا خدا کا آنا ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں اس بارے میں ایک یہ آیت بھی ہے۔ وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا کہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل نے بھاگنا ہی تھا۔ حق سے مراد اس جگہ اللہ جل شانہ اور قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اور باطل سے مراد شیطان اور شیطان کا گروہ اور شیطانی تعلیمیں ہیں۔ سو دیکھو اپنے نام میں خدائے تعالی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیونکر شامل کر لیا اور آنحضرت کا ظہور فرمانا خدا تعالیٰ کا ظہور فرمانا ہوا ایسا جلالی ظہور جس سے شیطان معہ اپنے تمام لشکروں کے بھاگ گیا اور اس کی تعلیمیں ذلیل اور حقیر ہو گئیں اور اس کے گروہ کو بڑی بھاری شکست آئی۔ اسی جامعیت تامہ کی وجہ سے سورۃ آل عمران جزو تیسری میں مفصل یہ بیان ہے کہ تمام نبیوں اسے عہد و اقرار لیا گیا کہ تم پر واجب و لازم ہے کہ عظمت و جلالیت شان ختم الرسل پر جو محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ایمان لاؤ اور ان کی اس عظمت اور جلالیت کی اشاعت کرنے میں بدل و جان مدد کرو۔ اسی وجہ سے حضرت آدم صفی اللہ سے لے کر تا حضرت مسیح کلمہ اللہ جس قدر نبی ورسول گزرے ہیں وہ سب کی سب عظمت و جلالیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اقرار علیہ و سلم کا اقرار کرتے آئے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے توریت میں یہ بات کہہ کر کہ خدا سینا سے آیا اور سعیر سے طلوع ہوا اور فران کے پہاڑ سے ان پر چمکا صاف جتلا دیا کہ جلالیت الہی کا ظہور فاران پر آکر اپنے کمال کو پہنچ گیا۔ اور آفتاب صداقت کی پوری پوری شعائیں فاران پر ہی آکر ظہور پذیر ہوئیں اور وہی توربیت ہم کو یہ بتلاتی ہے کہ فاران مکہ معظمہ کا پہاڑ ہے جس میں حضرت اسماعیل علیہ السلام جدا مجد آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سکونت پذیر ہوئے اور یہی بات جغرافیہ کے نقشوں سے بپایہ ثبوت پہنچتی ہے اور ہمارے مخالف مخالف بھی جانتے ہیں کہ مکہ معظمہ میں سے بجز آں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم کوئی رسول نہیں اٹھا سود یکھو حضرت موسیٰ سے کیسی صاف صاف شہادت دی گئی ہے کہ وہ آفتاب صداقت جو فاران کے پہاڑ سے ظہور پذیر ہو گا اس کی شعاعیں سب سے زیادہ تیز ہیں اور سلسلہ ترقیات نور صداقت اسی کی ذات جامع بابرکات پر ختم ہے۔ حضرت داود کی پیش اسی طرح حضرت داؤد علیہ السلام نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالیت و کوئی من