مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 509 of 632

مسیحی انفاس — Page 509

۵۰۹ پہلے کبھی ظاہر ہوں گے۔ اور جو شخص دعوی کرتا ہے کہ ایسے معجزات کبھی ظاہر ہو چکے ہیں وہ محض بے بنیاد قصوں سے فریب خوردہ ہے اور اس کو سنت اللہ کا علم نہیں اگر ایسے متعجرات ظاہر ہوتے تو دنیا دنیا نہ رہتی اور تمام پردے کھل جاتے اور ایمان لانے کا ایک ذرہ بھی ثواب باقی نہ رہتا۔ براہین احمدیہ حصہ پنجم ۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۲ تا ۴۴ اور حواریوں ۳۵۶ حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں میں ہی دیکھو کہ یہودا اسکر یوطی کیونکر اول سے اخیر تک صحبت میں رہ کر صرف میں روپیہ کے لانچ سے مرید ہو گیا پطرس نے بھی تین مرتبہ لعنت کی۔ باقی سب بھاگ گئے شاید حواریوں کی بد اعتقادی کا موجب وہی محولات کی بھائیوں بد واقعات ہوں گے جو انجیل متی کے چھبیس باب میں تفصیل درج ہیں۔ کیونکہ حضرت پر یہاں کی اصلاح نہ کر عیسی تمام رات جاگتے رہے اور اپنی رہائی کے لئے دعا مانگی اور حواریوں کو بھی کہا کہ تم بھی دعا مانگو مگر وہ قبول نہیں ہوئی۔ اور جس قدر تکلیف مقدر تھی پہنچ گئی۔ اس دعامیں حضرت مسیح نے یہ بھی کہا کہ میرا دل نہایت غمگین ہے بلکہ میری موت کی سی حالت ہے مگر دعا کے نہ قبول ہونے حواری بدظن ہو گئے اور یہ امر قابل بحث کہ حضرت عیسیٰ نے نبی ہو کر اپنی جان بچانے کے لئے اس قدر کیوں اضطراب کیا۔ حاصل کلام یہ کہ انجیل سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کے حواری اکثر مرتد ہوتے رہے اور اس آخری واقعہ سے پہلے بھی ایک جماعت کثیر مرتد ہو گئی تھی بلکہ ایک اور مقام میں حضرت عیسی و پیش گوئی کے طور پر فرماتے ہیں کہ بعض میرے پر ایمان لانے والے پھر مرتد ہو جائیں گے۔ اور خود حضرت عیسی علیہ السلام کے حقیقی بھائی ہی ان سے راہ راست پر نہ آسکے۔ چنانچہ جان ڈیون پورٹ صاحب لکھتے ہیں کہ ان کے بھائی ان سے ہمیشہ بگڑے ہی رہے بلکہ ایک دفعہ انہوں نے قید کرانے کے لئے گورنمنٹ میں درخواست بھی کر دی تھی۔ پھر جب کہ وہ لوگ جو اسی ماں کے پیٹ سے نکلے تھے جس پیٹ سے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام نکلے تھے حضرت عیسیٰ اسے درست نہ ہو سکے تو پھر عوام کی سر سری بیعتوں کی بناء پر کیوں اعتراض کیا جائے ۔ حضرت عیسی کے بھائی سمجھنے والوں کے لئے ایک نہایت عمدہ نمونہ ہے کہ ایک بھائی تو پیغمبر اور چار حقیقی بھائی بے دین بلکہ دشمن دین اور وہ بھائی باوجو د دن رات کے تعلقات کے ایسے سخت منکر رہے کہ ان سے