ملفوظات (جلد 9) — Page 70
ملفوظات حضرت مسیح موعود جنوری ۱۹۰۷ء جلد نهم فرمایا۔ حضرت عیسی کے معجزے تو ایسے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے معجزات اس زمانے میں وہ بالکل معمولی مجھے جاسکتے ہیں اکمه سے ۔ مراد شب کور ہے ۔ اب ایسا بیمار معمولی کلیجی سے بھی اچھا ہو سکتا ہے۔ احیاء موٹی سے مراد بھی خطرناک مریضوں کا تندرست ہونا ہے۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں یہ باتیں کچھ بھی نہیں ۔ ہے بلا تاریخ قسم مرنے پر طعام کھلانا میںنے عرض کی کہ دیہات میں دستور ہے۔شادی فی کے موقع پر ایک تم کا خرچ کرتے ہیں۔ مثلاً جب کوئی چودھری مر جاوے تو تمام مسجدوں، دائروں و دیگر کمیوں کو بحصہ رسدی کچھ دیتے ہیں ۔ اس کی نسبت حضور کا کیا ارشاد ہے۔ فرمایا کہ طعام جو کھلا یا جاوے اس کا مردہ کو ثواب پہنچ جاتا ہے گو ایسا مفید نہیں جیسا کہ وہ اپنی زندگی میں خود کر جاتا۔ عرض کیا گیا حضور وہ خرچ وغیرہ کمیوں میں بطور حق الخدمت تقسیم ہوتا ہے۔ فرمایا۔ تو پھر کچھ حرج نہیں۔ یہ ایک علیحدہ بات ہے کسی کی خدمت کا حق تو دے دینا چاہیے۔ عرض کیا گیا۔ اس میں فخر و ریا تو ضرور ہوتا ہے یعنی دینے والے کے دل میں یہ ہوتا ہے کہ مجھے کوئی بڑا آدمی کہے۔ فرمایا۔ بہ نیت ایصال ثواب تو پہلے ہی وہ خرچ نہیں ۔ حق الخدمت ہے۔ بعض ریا شرعاً بھی لے ان ملفوظات پر کوئی تاریخ درج نہیں۔ جنوری کے پہلے یا دوسرے ہفتے کے معلوم ہوتے ہیں۔ (مرتب) بدر جلد ۶ نمبر ۶ مورخہ ۷ رفروری ۱۹۰۷ ء صفحہ ۴