ملفوظات (جلد 9) — Page 56
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۶ جلد نهم خرچ کرتا ہے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ عبادتیں اور یہ الفاظ اسی حد تک جو بیان کی گئی ہیں انسان کے کمال سلوک اور معرفتِ تامہ پر دلالت نہیں کرتے ۔ اگر ہدایت کا انتہائی نقطہ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ ہی تک ہو تو پھر معرفت کیا ہوئی ؟ اس لیے جو شخص قرآن مجید کی ہدایت پر کار بند ہوگا وہ معرفت کے اعلیٰ مقام تک پہنچے گا اور وہ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ سے نکل کر مشاہدہ کی حالت تک ترقی کرے گا گو یا خدا تعالیٰ کے وجود پر عین الیقین کا مقام ملے گا۔ اسی طرح پر نماز کے متعلق ابتدائی حالت تو یہی ہوگی جو یہاں بیان کی کہ وہ نماز کو کھڑی کرتے ہیں یعنی نماز گویا گری پڑتی ہے۔ گرنے سے مراد یہ ہے کہ اس میں ذوق اور لذت نہیں بے ذوقی اور وساوس کا سلسلہ ہے اس لیے اس میں وہ کشش اور جذب نہیں کہ انسان جیسے بھوک پیاس سے بے قرار ہو کر کھانے اور پانی کے لیے دوڑتا ہے اسی طرح پر نماز کے لیے دیوانہ وار دوڑے، لیکن جب وہ ہدایت پاتا ہے تو پھر یہ صورت نہیں رہے گی اس میں ایک ذوق پیدا ہو جائے گا۔ وساوس کا سلسلہ ختم ہو کر اطمینان اور سکینت کا رنگ شروع ہوگا ۔ کہتے ہیں کسی شخص کی کوئی چیز گم ہو گئی تو اس نے کہا کہ ذرا ٹھہر جاؤ نماز میں یاد آجاوے گی یہ نماز کاملوں کی نہیں ہوا کرتی کیونکہ اس میں تو شیطان انہیں وسوسہ ڈالتا ہے لیکن جب کامل کا درجہ ملے گا تو ہر وقت نماز ہی میں رہے گا اور ہزاروں روپیہ کی تجارت اور مفاد بھی اس میں کوئی ہرج اور روک نہیں ڈال سکتا۔ اسی طرح پر باقی جو کیفیتیں ہیں وہ نرے قال کے رنگ میں نہ ہوں گی ان میں حالی کیفیت پیدا ہو جائے گی اور غیب سے شہود پر پہنچ جاوے گا یہ مراتب نرے سنانے ہی کو نہیں ہیں کہ بطور قصہ تم کو سنا دیا اور تم بھی تھوڑی دیر کے لیے سن لے بدر سے۔ پہلا ایمان غیب پر ہے لیکن اگر ایمان صرف غیب تک محدود رہے تو اس میں کیا فائدہ؟ وہ تو ایک سنی سنائی بات ہے۔ اس کے بعد معرفت اور مشاہدہ کا درجہ حاصل کرنا چاہیے جو کہ اس ایمان کے بعد رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور انعام کے عطا ہوتا ہے اور انسان کی حالت غیب سے منتقل ہو کر علم شہود کی طرف آجاتی ہے۔ جن باتوں پر وہ پہلے غیب کے طور پر ایمان لاتا تھا اب ان کا عارف بن جاتا ہے اور اس کو رفتہ رفتہ وہ درجہ عطا ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو اسی دنیا میں دیکھ لیتا ہے۔ پس غیب پر ایمان لانے والے کو آگے ترقی دی جاتی ہے اور وہ مشاہدہ کے ر ( بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه (۱۲) درجہ تک پہنچ جاتا ہے ۔“ 66