ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 55

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۵ جلد نهم تقویٰ سے حصہ نہیں رکھتا اور پھر کہتا ہے کہ علوم دین اور حقائق اس کی زبان پر جاری ہوتے ہیں وہ جھوٹ بولتا ہے۔ ہرگز ہرگز ایسے دین کے حقائق اور معارف سے حصہ نہیں ملتا بلکہ دین کے لطائف اور نکات کے لیے متقی ہونا شرط ہے جیسا کہ یہ فارسی شعر ہے۔ عروس حضرت قرآن نقاب آنگه بردارد که دار الملک معنی را کند خالی از هر غوغا جب تک یہ بات پیدا نہ ہو اور دار الملک معنے خالی نہ ہو، وہ غوغا کیا ہے؟ یہی فسق و فجور دنیا پسندی ہے۔ ہاں یہ جدا امر ہے کہ چور کی طرح کچھ کہلائے تو کہہ دے۔ لیکن جو روح القدس سے بولتے ہیں وہ بحر تقویٰ کے نہیں بولتے یہ خوب یاد رکھو کہ تقوی تمام دینی علوم کی کنجی ہے۔ انسان تقویٰ کے سوا ان کو نہیں سیکھ سکتا ۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا الله ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرة : ۲ ، ۳) یہ کتاب تقویٰ کرنے والوں کو ہدایت کرتی ہے اور وہ کون ہیں؟ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ (البقرۃ: ۴) جو غیب پر ایمان لاتے ہیں یعنی ابھی وہ خدا نظر نہیں آتا۔ اور پھر نماز کو کھڑی کرتے ہیں یعنی نماز میں ابھی پورا سرور اور ذوق پیدا نہیں ہوتا۔ تا ہم بے لطفی اور بے ذوقی اور وساوس میں ہی نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ یہ خرچ کرتے ہیں اور جو کچھ تجھ پر یا تجھ سے پہلے نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ متقی کے ابتدائی مدارج اور صفات ہیں۔ جیسا کہ میں نے ایک مرتبہ بیان کیا تھا بظاہر یہاں اعتراض ہوتا ہے کہ جب وہ خدا پر ایمان لاتے ہیں ۔ نماز پڑھتے ہیں۔ خرچ کرتے ہیں اور ایسا ہی خدا کی کتابوں پر ایمان لاتے ہیں پھر اس کے سوانئی ہدایت کیا ہوگی ؟ یہ تو گویا تحصیل حاصل ہوئی ۔ يُنفِقُونَ میں دونوں باتیں داخل ہیں ۔ یعنی دوسروں کو روٹی یا کپڑا یا مال دیتا ہے اور یا قومی لے بدر سے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو حرام کیا ہے کہ فسق و فجور اور شرارت کے ساتھ کسی کو دینی علوم بھی حاصل ہو جائیں۔ ہاں چور کی طرح کوئی دوسروں کی بات لے کر بیان کر دے تو وہ مال مسروقہ ہے لیکن وہ کلام جو روح القدس کی تائید کے ساتھ ہوتا ہے وہ تقویٰ کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا ۔ تمام دینی علوم کی کنجی تقوی ہی ہے۔“ ( بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۷ ارجنوری ۱۹۰۷ ء صفحه (۱۲)