ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 49 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 49

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۹ جلد نهم کو ملیں اور نہ حضرت عیسیٰ کو ( علیہما السلام ) سب جانتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام تو ایسی قوم میں آئے جو تو رات پڑھتے تھے اور فقیہوں فریسیوں کے تابع تھے۔ یہ سچ ہے کہ ان میں غافل دنیا دار بھی تھے لیکن پھر بھی تو رات پڑھی جاتی تھی۔ بیت المقدس قبلہ موجود تھا لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جس قوم میں آئے وہ تو کسی بات کے بھی قائل نہ تھے نہ ان میں کوئی شریعت تھی اور نہ وہ کسی کتاب کے قائل اور پابند بلکہ اکثر تو خدا تعالیٰ کے بھی قائل نہ تھے۔ وہ کہتے تھے ۔ مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَ نَحْيَا وَ مَا يُهْلِكُنَّا إِلَّا الدَّهْرُ ( الجاثية : ۲۵) وہ جو کچھ سمجھتے تھے اسی دنیا کو سمجھتے تھے کہ آگے جا کر کسی نے کیا دیکھا ہے۔ یہی دنیا ہی دنیا ہے۔ اس آیت میں دہر کا لفظ اسی لیے بیان کیا ہے تا کہ ظاہر کیا جاوے کہ وہ دہر یہ تھے اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس وقت عرب میں قریباً تمام بیہودہ اور باطل مذاہب جمع ہوئے ہوئے تھے۔ وہ گویا ایک چھوٹا سا نقشہ تھا جو گندے اور افراط تفریط کے طریق تھے۔ وہ عملی طور پر اس میں دکھائے گئے تھے۔ جیسے کسی ملک کا نقشہ ہو۔ اس میں سب مقام موٹے موٹے دکھائے جاتے ہیں۔ اسی طرح وہاں کی حالت تھی ۔ یہ کیسی بڑی روشن دلیل آپؐ کی سچائی کی ہے کہ ایسی قوم اور ایسے ملک میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا جو انسانیت کے دائرہ سے نکل چکا تھا۔ میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ خواہ کیسا ہی پکا دشمن ہو اور خواہ وہ عیسائی ہو یا آر یہ جب وہ ان حالات کو دیکھے گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عرب کے تھے اور پھر اس تبدیلی پر نظر کرے گا جو آپ کی تعلیم اور تاثیر سے پیدا ہوئی تو اسے بے اختیار آپ کی حقانیت کی شہادت دینی پڑے گی ۔ موٹی سی بات ہے کہ قرآن مجید نے ان کی پہلی حالت کا تو یہ نقشہ کھینچا ہے یا كُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ (محمد: (۱۳) یہ تو ان کی کفر کی حالت تھی پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تاثیرات نے ان میں تبدیلی پیدا کی تو ان کی حالت یہ ہوگئی يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا و قِيَامًا (الفرقان : ۶۵ ) یعنی وہ اپنے رب کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے راتیں کاٹ دیتے ہیں جو تبدیلی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے وحشیوں میں کی اور جس گڑھے