ملفوظات (جلد 9) — Page 48
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ٧ جلد نهم پہنچ جاوے اور وہ ایسی عالمگیر ہو جاوے کہ ہر طرف موت ہی موت نظر آنے لگے تو عادت اللہ یہی ہے کہ اس وقت کوئی نہ کوئی علاج اس کا نکل آتا ہے اور گورنمنٹ کو بھی اس کے انسداد اور علاج کی طرف خاص توجہ ہونے لگتی ہے وہ دیکھتی ہے کہ یہ کیا اندھیر ہوا کہ موت ہی موت ہونے لگی ۔ اسی طرح پر روحانی نظام ہے۔ جب کسی ملک اور قوم کی حالت بگڑ جاتی ہے اور وہ انسانیت کے جامہ سے نکل کر وحشیانہ حالت میں آجاتی ہے اور ہر قسم کی بدیوں اور بدکاریوں میں مبتلا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کا کوئی سامان پیدا کر دیتا ہے۔ یہ بالکل صاف بات ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے دلائل ہیں جب عرب کی حالت ایسی خراب ہو گئی تو ضروری تھا کہ اس کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ کسی کامل انسان کو بھیجتا۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے مبعوث فرمایا۔ جو ایسے وقت آئے کہ دنیا آپؐ کی اصلاح کے لیے پکار رہی تھی ۔ یہ خدا تعالیٰ کے رحم کا تقاضا تھا اور مسلمانوں کے لیے یہ فخر اور ناز کا مقام ہے کہ آپ کی بعثت کے وقت زمانہ کی حالت آپ کی سچائی کی ایک روشن دلیل ہے پھر اس کے بعد آپ نے جو اصلاح کی وہ بھی آپ کی حقانیت کی دلیل ہے کیونکہ جب ایک طبیب بیماروں میں آوے اور مختلف قسم (کے ) مریض موجود ہوں ۔ کوئی طاعون میں مبتلا ہو ۔ کوئی دق سل کا شکار اور کوئی ذات الریہ اور ذات الجنب وغیرہ اور پھر وہ طبیب اپنے علاج سے اکثروں کو اچھا کر دے تو اس کے حاذق اور ڈاکٹر ماننے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے؟ بلا تکلف ماننا پڑے گا کہ وہ کامل طبیب ہے لیکن جبکہ وہ سب ہی کو اچھا کر دے اور جو دعویٰ کرے اس کو پورا کر دکھائے اور ایسا کہ اس کی نظیر ہی نہ مل سکے تو پھر اس کے کمال میں کوئی شک ہی نہیں ہو سکتا ۔ اسے راستباز اور اپنے فن میں یکتا ماننا پڑے گا۔ یہی حال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے وہ ایسے وقت آئے کہ ضرورت پکار رہی تھی اور پھر اپنی تاثیرات سے ان تمام روحانی مریضوں کو جو اس وقت پڑے ہوئے تھے اچھا کر دیا۔ میں دیکھتا ہوں اور دعویٰ سے کہتا ہوں کہ دو دلیلیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کی ایسی جمع ہوئی ہیں کہ نہ حضرت موسیٰ