ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 33

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳ جلد نهم کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں ننگا ہو جاوے۔ یہ مت سمجھو کہ میں تمہیں اس امر سے منع کرتا ہوں کہ تم تجارت نہ کرو یا زراعت اور نوکری یا دوسرے ذرائع معاش سے روکتا ہوں ۔ ہرگز نہیں۔ میرا یہ مطلب نہیں ہے بلکہ میرا مطلب یہ ہے دل با یار دست با کار ۔ تمہارا اُسوہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کوئی تجارت اور بیع و شری انہیں ذکر اللہ سے نہیں روکتا۔ ہزاروں لاکھوں کی تجارت میں بھی وہ خدا تعالیٰ سے ایک لحظہ کے لیے جدا نہیں ہوتے ۔ اس لیے تمہارا فخر اور دستاویز ایسے اعمال ہونے چاہئیں جو حقیقی ایمان کے بعد پیدا ہوتے ہیں ۔ میں اس امر کا افسوس سے ذکر کرتا ہوں کہ بعض لوگ میں نے سچی خواب مدار نجات نہیں دیکھے ہیں جن کی زندگی کا بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ انہیں خواب آجاتے ہیں یا آنے چاہئیں ۔ وہ ساراز و راسی امر پر دیتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ ابتلا ہے جو لوگ اس وہم میں مبتلا ہیں وہ یاد رکھیں اس امر سے نجات وابستہ نہیں ہے۔ کبھی یہ سوال نہیں ہوگا تجھے کتنے خواب آئے تھے؟ میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے چوری میں سزا پائی اور جب سزا پا کر آئے اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ چوری کرنے گئے تھے۔ خواب میں معلوم ہو گیا تھا کہ ایسا ہوگا۔ بڑے بڑے بدکار جو کنجر کہلاتے ہیں انہیں بھی سچی خواب آسکتی ہے۔ یہاں ہمارے ہاں ایک چوہڑی تھی اس کو بھی خواب آ جاتے تھے۔ پس تم اس ابتلا میں مت پھنسو ۔ خدا تعالیٰ سے اپنے تعلقات بڑھاؤ اور اس کو راضی کرو۔ اپنے اعمال میں ایک خوبصورتی پیدا کرو۔ انسان کو چاہیے کہ اس امر کا مطالعہ کرے کہ کیا قرآن شریف کے موافق میں نے اپنے اعمال کو بنالیا ہے یا نہیں؟ اگر یہ بات ( نہیں ) ہے تو خواہ اس کو ہزاروں خواب آئیں بے سود اور بے فائدہ ہیں۔ قرآن شریف میں یہی حکم ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا پورا ادا کرو۔ ان میں ریا ، خیانت ، شرارت باقی نہ ہو۔ وہ خالصہ اللہ ہوں ۔ پس پہلے اس بات کو پیدا کرو۔ پھر اس کے ثمرات خود بخود حاصل ہوں گے۔