ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 32

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲ جلد نهم صرف ذبح کرنے سے حلال نہیں ہو جائے گا۔ زکوۃ تزکیہ سے نکلی ہے ۔ مال کو پاک کرو اور پھر اس میں سے زکوۃ دو۔ جو اس میں سے دیتا ہے اس کا صدق قائم ہے لیکن جو حلال و حرام کی تمیز نہیں کرتا وہ اس کے اصل مفہوم سے دور پڑا ہوا ہے اس قسم کی غلطیوں سے دست بردار ہونا چاہیے اور ان ارکان کی حقیقت کو بخوبی سمجھ لینا چاہیے تب یہ ارکان نجات دیتے ہیں ورنہ نہیں اور انسان کہیں کا کہیں چلا جاتا ہے۔ یقیناً سمجھو کہ فخر کرنے کی کوئی چیز نہیں ہے اور خدا تعالیٰ کا کوئی انفسی یا آفاقی شریک نہ ٹھہراؤ اور اعمال صالحہ بجالاؤ۔ مال سے محبت نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران: ۹۳) یعنی تم پڑ تک نہیں پہنچ سکتے جب تک وہ مال خرچ نہ کرو جس کو تم عزیز رکھتے ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو اپنا اُسوہ بناؤ اور دیکھو کہ وہ زمانہ تھا جب صحابہ نے نہ اپنی جان کو عزیز سمجھا نہ اولاد اور بیویوں کو ۔ بلکہ ہر ایک ان میں سے اس بات کا حریص تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں شہید ہو جاؤں ۔ تم حلفاً بیان کرو کیا تمہارے اندر یہ بات ہے؟ جب ذرا سا بھی ابتلا آجاوے تو گھبرا جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ ہی کی شکایت کرنے لگتے ہیں ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کبھی مسلمان نہیں کہلا سکتے ۔ رض میں بار بار یہی کہتا ہوں کہ تمہارا اسوہ حسنہ وہی ہو جو صحابہؓ کا تھا۔ میرا کہنا تو صرف کہہ دینا ہے۔ توفیق کا عطا کرنا اللہ تعالیٰ کے فضل کی بات ہے۔ اس بات کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھو کہ تمہارے اعمال اور اف اور افعال میں اخلاص ہو۔ ریا کاری اور بناوٹ نہ ہو۔ کیونکہ تم جانتے ہو اگر کوئی شخص سونے کی بجائے پیتل لے کر بازار میں جاوے تو وہ فوراً پکڑا جاوے گا اور آخرا سے جیل میں جا کر اپنی جعلسازی کی سزا بھگتنی پڑے گی ۔ پس اسی طرح پر خدا تعالیٰ کے حضور دھوکا نہیں چل سکتا۔ انسان کو دھوکا لگ سکتا ہے مگر وہاں نہیں ہو سکتا۔ جو چاہتا ہے کہ وہ خدا کا اور خدا اس کا ہو جاوے اسے چاہیے لے بدر سے ۔ ”انسان کو اپنے اعمال پر فخر نہیں کرنا چاہیے اور نہ خوش ہونا چاہیے جب تک ایسا ایمان خالص حاصل نہ ہو جاوے کہ انسان کی عبادت میں خدا تعالیٰ کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو۔“ ( بدر جلد ۶ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه (۱۵)