ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 306

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۶ جلد نهم لاتا ہے اور کس قدر خرچ کرتا ہے اور کتنی کوشش کرتا ہے اور اگر با وجود اتنی کوشش کے وہ مقدمہ خارج ہو جاتا ہے تو پھر اپیل کراتا ہے بلکہ اگر وہ بھی خارج ہو جاتی ہے تو پھر کیسی کیسی مصیبتیں برداشت کر کے اپیل در اپیل کرتا اور کیا کا کیا کر گذرتا ہے تو کیا دین کو ہی ایسا سمجھنا چاہیے کہ وہ محض پھونک مارنے اور کسی ورد وظیفہ کے کرنے سے حاصل ہو جائے گا۔ اور یونہی آرام طلبی سے گزار نے پر اس میں کامیابی ہو جائے گی ؟ خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لا يُفْتَنُونَ ( العنكبوت: ۳) کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ صرف زبانی قیل و قال پر ہی ان کو چھوڑ دیا جائے گا اور صرف اتنا کہنے سے ہی کہ ہم ایمان لے آئے دیندار سمجھے جائیں گے اور ان کا امتحان نہ بلکہ نہ ہوگا ؟ بلکہ امتحان اور آزمائش کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ سب انبیاء کا اس پر اتفاق ہے کہ ترقی مدارج کے لیے آزمائش ضروری ہے اور جب تک کوئی شخص آزمائش اور امتحان کی منازل طے نہیں کرتا دیندار نہیں بن سکتا ۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ دکھ کے بعد ہی ہمیشہ راحت ہوا کرتی ہے۔ یاد رکھو جو شخص خدا کی راہ میں دکھ اور مصیبت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں وہ کاٹا جاوے گا۔ ترقی ہمیشہ مصائب اور تکالیف کے بعد ہوتی ہے اور ایمانی حالت کا پتا اسی وقت لگتا ہے جب تکالیف اور مصائب آویں ۔ روحانی فوائد حاصل کرنے کے لیے پہلے اپنے آپ کو دکھ اور تکالیف اٹھانے کے لیے تیار کر لینا چاہیے۔ عشق اول سرکش و خونی بود تا گریزد هر که بیرونی بود بعض لوگ آتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں پھونک مارو کہ اولیاء اللہ بن جاویں اور ہمارا سینہ صاف ہو جاوے اور روحانی معراج پر پہنچ جاویں اور ہمارے قلب میں پاکیزگی پیدا ہو جاوے۔ ان کو یا د رکھنا چاہیے کہ سب کچھ دکھوں اور تکالیف کے بعد مل جاتا ہے اور ضرور مل جاتا ہے مومن کو اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا۔ جب انسان دنیا کے لیے طرح طرح کی تکالیف برداشت کر لیتا ہے۔ ایک کسان کو ہی دیکھو کہ پہر رات کے قریب اٹھتا ہے ۔ ہل جوتا ہے اور کتنی تکالیف اٹھاتا اور محنت