ملفوظات (جلد 9) — Page 305
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۵ جلد نهم ہماری باتوں کو کچھ اور کا اور ہی بناتے رہیں اور بات تو کچھ اور ہو اور سمجھانے کچھ اور لگ جاویں۔ دوسروں کو تو ہمارے دعوئی سے آگاہ کریں اور خود ہماری کتابوں کو کبھی پڑھا بھی نہ ہو۔ اس طرح سے ہی تحریف ہوا کرتی ہے۔ ایسے وقتوں میں صرف زبانی فیصلہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ تحریر پیش کرنی چاہیے۔ ہم پر الزم لگائے جاتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام حسین کی توہین کی جاتی ہے حالانکہ ہم ان کو راستباز اور متقی سمجھتے ہیں۔ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بہت بے عزتی کی جاتی ہے اور ان کو گالی دی جاتی ہے حالانکہ ہم ان کو ایک اولوالعزم نبی اور خدا کا راستباز بندہ سمجھتے ہیں۔ ہاں اگر حضرت عیسی کا مر جانا ثابت کرنا ان کے نزدیک گالی دینا ہے تو اس طرح سے تو ہم نے نکالی ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ دوسرے نبیوں کی طرح وفات پاگئے ہیں ۔ اے ۳ اکتوبر ۱۹۰۷ء (قبل نماز ظهر) شخص عرض ترقی مدارج کے لیے آزمائش ضروری ہے ایک مفص نے مر کے ہمیں روحانی قائد کے واسطے یہاں آیا ہوں مجھے کچھ بتایا جائے۔ فرمایا۔ روحانی فائدہ بھی انہیں کو پہنچتا ہے جو آپ کوشش کرتے ہیں ۔ دیکھو ! ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے اعلیٰ اور افضل تھے مگر انہوں نے بھی دین کی خاطر کیسے کیسے مصائب اٹھائے ۔ دین بھی تو مرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے ۔ خدا چاہتا تو ایسا نہ کرتا مگر اس نے دنیا کے لیے بھی یہی قانون رکھا ہے کہ محنت سے سب کچھ ہوتا ہے اگر خدا کا فضل بھی ہوا اور محنت بھی ہو تو انسان منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے۔ دنیا کے کاموں کے لیے انسان کیسے کیسے دکھ اٹھاتا اور کیسی کیسی تکلیفیں برداشت کرتا ہے اور تب جا کر کچھ حاصل ہوتا ہے تو کیا دین کے لیے کچھ بھی محنت اور سعی نہیں کرنی چاہیے؟ اگر تھوڑا سا مقدمہ آجاوے تو پھر انسان اس کے واسطے کہاں کہاں سے سفارشیں الحکم جلد ا ا نمبر ۳۶ مورخه ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۹