ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 301

ملفوظات حضرت مسیح موعود تم سے بہتر جانتی ہے ۔ ۳۰۱ جلد نهم فرمایا۔ ایک بزرگ کے پاس دو شیعہ آئے اور اپنے آپ کو سنی ظاہر کیا اور اس بزرگ سے دو سوال کیا کہ اتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ کے کیا معنے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس کے یہ معنے ہیں کہ تم اپنے شیعہ پن سے تو بہ کرو اور سچے دل سے سنی مسلمان ہو جاؤ۔ مثالی صبر وش صبر و شکر فرمایا۔ بعض نادان خیال کرتے ہیں کہ مبار احمد کا مرنا ہمارے واسطے کسی سخت رنج اور صدمہ کا سبب ہوا ہے ۔ وہ نہیں جانتے کہ اس واقعہ پر خدا تعالیٰ نے کس قدر تشفی اور تسلی اور اپنی خوشنودی کا اظہار اپنی پاک وحی کے ذریعہ سے کیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے ہمارے صبر اور شکر اور والدہ مبارک احمد کے صبر پر جو خوشی کا اظہار کیا ہے اور فتح ونصرت کے وعدے دیتے ہیں اور فرمایا ہے کہ خدا تیرے ہر قدم کے ساتھ ہوگا ۔ یہ ایسی باتیں ہیں کہ والدہ مبارک احمد نے کہا کہ خدا کا خوش ہو جانا مجھے ایسا پیارا ہے کہ اگر دو ہزار مبارک احمد مر جائے تو مجھے اس کا غم نہیں ۔ لم کی تعلیم علم کی تعلیم ایک دوست کو حضرت نے ایک مخالف کوئی موقع پر بجھانے کے اسے تاکید کی۔ فرمایا۔ وہ مانے یا نہ مانے ، آپ تبلیغ کا حق ادا کریں ۔ کیونکہ جو شخص تبلیغ کرتا کرتا ہے اس کو بہر حال ثواب مل جاتا ہے اور تم یہ امید نہ رکھو کہ مخالف تمہارے ساتھ خوش خلقی یا تہذیب سے پیش آئے گا۔ کیونکہ وہ تو مخالف ہے۔ ہم کو بُرا جانتا ہے اس کے دل میں ہمارا ادب نہیں ۔ جب تک کہ وہ دشمن ہے اس کے دل میں نہ ہمارا ادب ہو سکتا ہے نہ اعزاز اور نہ خیر اندیشی اور نہ وہ منصف مزاجی سے گفتگو کر سکتا ہے۔ ایک دفعہ ایک اینچی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ وہ بار بار آپ کی ریش مبارک کی طرف ہاتھ بڑھاتا تھا اور حضرت عمرؓ تلوار کے ساتھ اس کا ہاتھ ہٹاتے تھے آخر حضرت عمر کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ یہ ایسی گستاخی کرتا ہے کہ میرا جی چاہتا ہے کہ اس کو قتل کر دوں ۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تمام گستاخی حلم کے ساتھ برداشت کی ۔ فرمایا۔ سیالکوٹ، گجرات، گوجرانوالہ اور جہلم کے اضلاع کی سرزمین اپنے اندر اسلامی سرشت کی خاصیت رکھتی ہے ۔ ان اضلاع میں بہت لوگوں نے حق کی سرشت زمین