ملفوظات (جلد 9) — Page 299
ملفوظات حضرت مسیح موعود بلا تاریخ ۲۹۹ المفتى ایک غلطی کی اصلاح کون سا مریض صرف فدیہ دے سکتا ہے گذشتہ پرچہ اخبار نمبر ۴۲ مورخہ ار اکتوبر ۱۹۰۷ء کے صفحہ ۷ے کالم اول میں یہ لکھا گیا تھا کہ مریض اور مسافر ایام مرض اور ایام سفر میں روزہ نہ رکھیں بلکہ ان ایام کے عوض میں ماہ رمضان کے بعد دوسرے دنوں میں بصورت صحت اور قیام ان روزوں کو پورا کریں۔ اسی عبارت کے اخیر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ”جو مریض اور مسافر صاحب مقدرت ہوں ان کو چاہیے کہ روزہ کی بجائے فدیہ دیں۔“ اس جگہ مریض اور مسافر سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو کبھی امید نہیں کہ پھر روزہ رکھنے کا موقع مل سکے ۔ مثلاً ایک نہایت بوڑھا ضعیف انسان یا ایک کمزور حاملہ عورت جو دیکھتی ہے کہ بعد وضع حمل بہ سبب بچے کو دودھ پلانے کے وہ پھر معذور ہو جائے گی ۔ اور سال بھر اسی طرح گزر جائے گا۔ ایسے اشخاص کے واسطے جائز ہو سکتا ہے کہ وہ روزہ نہ رکھیں کیونکہ وہ روزہ رکھ ہی نہیں سکتے اور فدیہ دیں۔ باقی اور کسی کے واسطے جائز نہیں کہ صرف فدیہ دے کر روزے کے رکھنے سے معذور سمجھا جا سکے۔ چونکہ اخبار بدر کی مذکورہ بالا عبارت صاف نہ تھی اس واسطے یہ مسئلہ دوبارہ حضرت اقدس کی خدمت میں پیش ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ جلد نهم صرف فدیہ تو شیخ فانی یا اس جیسوں کے واسطے ہو سکتا ہے جو روزہ کی طاقت کبھی بھی نہیں رکھتے۔ ور نہ عوام کے واسطے جو صحت پا کر روزہ رکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ صرف فدیہ کا خیال کرنا اباحت کا دروازہ کھول دینا ہے۔ جس دین میں مجاہدات نہ ہوں وہ دین ہمارے نزدیک کچھ نہیں ۔ اس طرح سے خدا تعالیٰ کے بوجھوں کو سر پر سے ٹالنا سخت گناہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ میرے راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں ان کو ہی ہدایت دی جاوے گی ۔