ملفوظات (جلد 9) — Page 295
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۵ جلد نهم اس جگہ پر بڑی عقلمندی درکار ہے۔ بدر کی لڑائی سے پہلے ایک عورت نے خواب میں دیکھا کہ بکرے ذبح ہو رہے ہیں تو ابو جہل سن کر کہنے لگا کہ ایک اور نبیہ ہمارے گھر میں پیدا ہوگئی ہے۔ چاہیے کہ انسان اپنی حالت کو دیکھے اور اپنے اس تعلق کو دیکھے جو وہ خدا سے رکھتا ہے اور اپنے نفس کا مطالعہ کرے کہ کہاں تک عملی حالت درست ہوئی ہے۔ یہ نہیں کہ مجھے سچی خواب آ گئی ہے۔ یہ تو دنیا میں ہوتا ہی رہتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ فرعون کو بھی خواب آیا تھا اور حضرت یوسف علیہ السلام نے بھی بادشاہ وقت کے خواب کی تعبیر کی تھی ۔ بہتیرے لوگ ہماری جماعت میں ایسے پائے جاتے ہیں جو بڑے بڑے الہامات لکھ کر بھیج دیتے ہیں اور اپنی بڑی بڑی خوا ہیں اور رو یا بیان کرتے ہیں اور ان کی حالت دیکھ کر مجھے اندیشہ ہی رہتا ہے کہ کہیں ٹھو کر نہ کھاویں۔ ان کی نسبت تو سادہ طبع لوگ ہی اچھے ہوتے ہیں۔ غرض ایسی تمنا ہی نہیں کرنی چاہیے۔ ( قبل نماز عصر ) جماعت کے واعظین اور مبلغین کی صفات فرمایا۔ میں واعظین کے متعلق دیگر لوازمات کے سوچنے میں مصروف ہوں۔ بالفعل بارہ آدمی منتخب کر کے روانہ کئے جائیں اور یہاں قریب کے اضلاع میں بھیجے جائیں ۔ بعد میں رفتہ رفتہ دوسری جگہوں میں جاسکتے ہیں۔ ان کا اختیار ہو گا کہ مثلاً ایک دو ماہ باہر گزاریں اور پھر دس پندرہ روز کے واسطے قادیان آجائیں۔ اس کام کے واسطے وہ آدمی موزوں ہوں گے جو کہ مَنْ يَتَّقِ وَ يَصْبِرُ (یوسف:۹۱) کے مصداق ہوں ۔ ان میں تقوی کی خوبی بھی ہوا اور صبر بھی ہو۔ پاک دامن ہوں ۔ فسق و فجور سے بچنے والے ہوں ۔ معاصی سے دور رہنے والے ہوں لیکن ساتھ ہی مشکلات پر صبر کرنے والے ہوں ۔ لوگوں کی دشنام دہی پر جوش میں نہ آئیں ۔ ہر طرح کی تکلیف اور دکھ کو برداشت کر کے صبر کریں ۔ بقیہ حاشیہ ) مجھے الہی بخش کی نسبت بھی ہمیشہ یہ کھٹکا تھا اور آخر وہی نتیجہ نکلا الحکم جلد ا ا نمبر ۳۶ مورخه ۱۰ راکتو بر ۱۹۰۷ ء صفحه ۹۷۸ بدر جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۳ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۶ )