ملفوظات (جلد 9) — Page 294
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۴ جلد نهم آدمی کے قریب : ریب ہوں گے جو اسی طرح ہلاک ہو رہے ہیں اور خلق خدا کو راہ راست سے پھیر رہے ہیں اور اس زمانہ میں ایسی باتوں کا وہ چر چا پھیل گیا ہے کہ پہلے زمانوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ایک ہندو میرے پاس آیا اور بیان کیا کہ فلاں آدمی کی تبدیلی کی نسبت میں نے خواب دیکھی تھی پھر ویسے ہی ظہور میں آگئی تھی اور طاعون کی نسبت بھی پہلے ہی سے خواب دیکھی ہوئی تھی۔ میں نے اس کو جواب دیا کہ انہیں باتوں نے ہی تجھے ہلاک کرنا ہے۔ ایسے ہی ایک چوہڑی اپنی خوابیں بیان کیا کرتی تھی جو اکثر سچی ہوا کرتی تھیں ۔ ایسے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ابو جہل کو بھی خواہیں آیا کرتی تھیں اور اکثر سچی نکل آتی تھیں۔ کے ہر ایک اس فرق کو معلوم نہیں کر سکتا۔ ایسی خوابوں وغیرہ پر اپنے آپ کو پاک صاف نہیں سمجھ لینا چاہیے بلکہ اپنی عملی حالت کو پاک کرنا چاہیے جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى (الاعلی: ۱۵) اپنی حالت کا بہت مطالعہ کرنا چاہیے اور ایسی باتوں کی خواہش بھی نہیں کرنی چاہیے ۔ اگر تخم ریزی سے ہی انسان سمجھ لے گا کہ میں رسول ہوں تو ٹھو کر کھائے گا۔ ہے یہاں تو معاملہ ہی اور ہے اور اس کے شرائط اور آثار بھی الگ ہیں ۔ (بقیہ حاشیہ ) اس کو کہاں تک حاصل ہے اور کہ اس کا دل کہاں تک بدیوں سے پاک ہو کر نیکیاں حاصل کر چکا ہے۔ صرف خوابوں کا آنا اور ان کا سچا ہو جانا کوئی نئے نہیں۔ کیونکہ یہ بات تو تخم ریزی کے طور پر ہر انسان میں رکھی گئی ہے اور خدا کے کسی مامور رسول کے وقت اس کی کثرت ہو جاتی ہے جیسا کہ چشمہ صافی سے پانی نکلتا ہے تو کچھ اور جگہوں پر پڑتا ہے۔ اس میں خواب دیکھنے والے کی کوئی خوبی اور نیکی کی نشانی نہیں ۔“ 66 بدر جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۳ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۶ ) لے بدر سے۔ غرض یہ کوئی قابل فخر امر نہیں اور افسوس ہے کہ لوگ اس سے ٹھو کر کھاتے ہیں اور سخت نقصان اٹھاتے ہیں۔ ان لوگوں کے واسطے بہتر تھا کہ ان کو کوئی خواب نہ آتا اور یہ دھوکے میں پڑ کر تکبر نہ کرتے ۔ وہ نہیں سمجھتے کہ ان خوابوں کی بنا پر اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگنا ان کے واسطے موجب ہلاکت ہے۔“ بدر جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۳ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۶ ) بدر سے۔ جو شخص اپنی خوابوں کی طرف جاتا ہے وہ ٹھو کر کھا کر ہلاک ہو جائے گا۔ اس جگہ بہت عقلمندی درکار ہے۔