ملفوظات (جلد 9) — Page 292
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۲ جلد نهم لے کھلایا۔ میں بیمار تھا تم نے میری بیمار پرسی نہ کی ۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہ تو سب استعارات ہوتے ہیں ۔ کے ۲۹ ستمبر ۱۹۰۷ء حکیم محمد حسین صاحب قریشی کو مخاطب کر کے فرمایا کہ طاعون کی جگہ کو چھوڑنا چاہیے لاہور میں اکتوبر مور میں اکتوبر کے ماہ میں طاعون کا خوف معلوم ہوتا ہے۔ ہے۔ آپ ہمارے پہلے اصول کو یاد رکھیں کہ جب ارد گر د طاعون کا غلبہ ہو یا مکان میں چوہے مریں تو فوراً اس مکان کو چھوڑ دو اور شہر کے باہر کہیں کھلی ہوا میں اپنے لیے جگہ بناؤ۔ باہر نکل کر بھی اس امر کی احتیاط کرنی چاہیے کہ پھر ایک ہی جگہ بہت سے آدمی جمع ہو کر وہی صورت خراب ہوا کی پیدا نہ کر لیں جو شہر میں تھی۔ سنت انبیاء یہی ہے کہ ایسی جگہ سے بھاگ جانا چاہیے۔ خدا کا مقابلہ کرنا اچھا نہیں۔ شخص اس چوہوں کو ختم کرنے کا بہتر ذریعہ ایک صف کا کر ہوا کہ وہاں گاؤں میں سرکاری طرف سے پنجرے لے کر آیا ہے کہ چوہوں کو مارا جائے ۔ فرمایا۔ ہمارے گھر میں تو ایسے موقع پر بلیاں جمع ہو جاتی ہیں۔ پنجروں کی نسبت بلیوں کی خدمات ایسے موقع پر بہتر معلوم ہوتی ہیں کیونکہ بلی کے خوف سے چوہے بالکل بھاگ جاتے ہیں۔ طاعون ایک خوفناک بیماری فرمایا۔ طاعون ایک بے نظیر و با ہے۔ اس کے اثر سے نہ صرف انسان مرتے ہیں بلکہ جانوروں پر بھی پڑتی ہے ۔ سرگودھا کے علاقہ میں سنا گیا ہے کہ جنگل میں گلہریاں، بھیڑیئے اور گیدڑ بھی اس بیماری سے مرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کا غضب سخت ہے کہ کوئی ایسی بیماری نہیں جو جانوروں اور آدمیوں اور چرندوں اور پرندوں سب پر اس طرح مساوی پڑے اور سب کو تباہ کر دیوے۔ الحکم جلد ا ا نمبر ۳۶ مورخه ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۸ بدر جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۳ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۶