ملفوظات (جلد 9) — Page 266
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۶ جلد نهم پہنچا دیتا ہے یا نوٹ لے کر روپے دے دیتا ہے تو اس میں کچھ ہرج نہیں کہ وہ کچھ مناسب کمیشن اس پر لے لے۔ کیونکہ نوٹ یا روپیہ یا ریزگاری کے محفوظ رکھنے اور تیار رکھنے میں وہ خود بھی وقت اور محنت خرچ کرتا ہے۔ ایک شخص نے بذریعہ خط حضرت اقدس سے دریافت کیا کہ ایک شخص مثلاً فاسقہ کاحق وراثت زید زید نام لا ولد فوت ہو گیا ہے۔ زید کی ایک ہمشیرہ تھی جو زید کی حینِ حیات میں بیاہی گئی تھی ۔ یہ سبب اس کے کہ خاوند سے بن نہ آئی اپنے بھائی کے گھر میں رہتی تھی اور وہیں رہی یہاں تک کہ زید مر گیا۔ زید کے مرنے کے بعد اس عورت نے بغیر اس کے کہ پہلے خاوند سے با قاعدہ طلاق حاصل کرتی ایک اور شخص سے نکاح کر لیا جو کہ نا جائز ہے۔ زید کے ترکہ میں جو لوگ حقدار ہیں کیا ان کے درمیان اس کی ہمشیرہ بھی شامل ہے یا اس کو حصہ نہیں ملنا چاہیے؟ حضرت نے فرمایا کہ اس کو حصہ شرعی ملنا چاہیے کیونکہ بھائی کی زندگی میں وہ اس کے پاس رہی اور فاسق ہو جانے سے اس کا حق وراثت باطل نہیں ہو سکتا۔ شرعی حصہ اس کو برابر ملنا چاہیے باقی معاملہ اس کا خدا کے ساتھ ہے۔ اس کا پہلا خاوند بذریعہ گورنمنٹ باضابطہ کارروائی کر سکتا ہے ۔ اس کے شرعی حق میں کوئی فرق نہیں آسکتا۔ فرمایا۔ انبیاء کے سوانح اور حالات میں بعض ایسے امور ہوتے ہیں کہ انبیاء کے مصائب کفار کے واسطے موجب ٹھوکر ہو جاتے ہیں۔ مگر اس میں قصور ان کفار کا ہوتا ہے کیونکہ وہ صرف ایک واقعہ کو پکڑ لیتے ہیں اور باقی تمام باتوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ انصاف یہ ہے کہ تمام امور کو یکجائی نظر سے دیکھا جائے ۔ انبیاء پر جو مصائب آتے ہیں ان میں بھی اللہ تعالیٰ کے ہزار ہا اسرار ہوتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت سے مصائب آتے تھے۔ جنگ احد میں ایک روا روایت ہے کہ آپ کو ستر تلواروں کے زخم لگے تھے اور مسلمانوں کی ظاہری حالت خراب دیکھ کر کفار کو بڑی خوشی ہوئی۔ چنانچہ ایک کافر نے یہ یقین کر کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کبار سب شہید ہو گئے ہوں گے بآواز بلند پکار کر کہا کہ کیا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تم