ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 263 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 263

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۳ جلد نهم پیشگوئیاں پوری کر دی ہیں اور فتح پر فتح اور نصرت پر نصرت دیتا رہا ہے ضروری ہے کہ وہ امتحان بھی لے۔ بعض لوگ نادان ہوتے ہیں ۔ سنت اللہ کو سمجھتے نہیں ہیں ان میں انجام شناسی اور پیش اور پیش و پس پر غور کر کے صحیح رائے قائم کرنے کی عادت نہیں ہوتی ۔ اس لیے اکثر ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔ چند دن ہوئے ہم نے ایک خواب دیکھا تھا کہ ایک شخص ہے جو گو یا مرتدین میں داخل ہو گیا ہے۔ میں اس آدمی کے پاس گیا ہوں ۔ آدمی سنجیدہ معلوم ہوتا ہے۔ میں نے اس سے کہا ہے کہ تم کو کیا ہو گیا ہے جو ارتداد اختیار کر لیا ہے تو اس نے مجھے جواب دیا کہ مصلحت وقت ہے۔ خدا محفوظ رکھے کسی کو یہ ابتلا پیش نہ آجاوے۔ جوہڑ کے او ز کے پانی کا استعمال قادیان کے اردگرد نشیب زمین میں بارش اورسیلاب کا پانی جمع ہو کر ایک جو ہڑ سا بن جاتا ہے جس کو یہاں ڈھاب کہتے ہیں ۔ جن ایام میں یہ نشیب زمین ( ساری یا اس کا کچھ حصہ ) خشک ہوتی ہے تو گاؤں کے لوگ اس کو رفع حاجت کے طور پر استعمال کرتے رہتے ہیں اور اس میں بہت سی ناپا کی جمع ہو جاتی ہے جو سیلاب کے پانی کے ساتھ مل جاتی ہے۔ آج کے صبح حضرت اقدس مع خدام جب باہر سیر کے واسطے تشریف لے گئے تو اس ڈھاب کے پاس سے گزرتے ہوئے فرمایا کہ ایسا پانی گاؤں کی صحت کے واسطے مضر ہوتا ہے ۔ پھر فرمایا۔ اس پانی میں بہت سا گند شامل ہو جاتا ہے اور اس کے استعمال سے کراہت آتی ہے۔ اگر چہ فقہ کے مطابق اس سے وضو کر لینا جائز ہے کیونکہ فقہاء کے مقرر کردہ وہ دردہ (10X10) سے زیادہ ہے تاہم اگر کوئی شخص جس نے اس میں گندگی پڑتی دیکھی ہو اگر اس کے استعمال سے کراہت کرے تو اس کے واسطے مجبوری نہیں کہ خواہ مخواہ اس سے یہ پانی استعمال کرایا جائے جیسا کہ الحکم جلد ا ا نمبر ۳۳ مورخه ۱۷ رستمبر ۱۹۰۷ء صفحه ۲ ے یعنی ۱۸ استمبر ۱۹۰۷ء (مرتب)