ملفوظات (جلد 9) — Page 249
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۹ جلد نهم اختیار کرو اور وہ سب باتیں جو خدا کو ناراض کرنے والی ہیں چھوڑ دو۔ جب تک خوف الہی کی حالت نہ ہو تب تک حقیقی تقویٰ حاصل نہیں ہو سکتا۔ کوشش کرو کہ متقی بن جاؤ۔ جب وہ لوگ ہلاک ہونے لگتے ہیں جو تقوی اختیار نہیں کرتے تب وہ لوگ بچا لیے جاتے ہیں جو متقی ہوتے ہیں ۔ ایسے وقت ان کی نافرمانی انہیں ہلاک کر دیتی ہے اور ان کا تقویٰ انہیں بچا لیتا ہے۔ انسان اپنی چالاکیوں ، شرارتوں اور غداریوں کے ساتھ اگر بچنا چاہے تو ہر گز نہیں بچ سکتا۔ کوئی انسان بھی نہ اپنی جان کی حفاظت کر سکتا ہے نہ مال و اولاد کی حفاظت کر سکتا ہے اور نہ ہی کوئی اور کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ پوشیدہ طور پر ضرور تعلق رکھنا چاہیے اور پھر اس تعلق کو محفوظ رکھنا چاہیے۔ عقلمند انسان وہی ہے جو اس تعلق کو محفوظ رکھتا ہے اور جو اس تعلق کو محفوظ نہیں رکھتا وہ ، بیوقوف ہے جو اپنی چترائی پر نازاں ہے وہ ہلاک کیا جائے گا اور کبھی با مراد اور کامیاب نہیں ہوگا۔ دیکھو یہ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں نظر آرہا ہے اتنا بڑا کارخانہ کیا یہ خدا کے پوشیدہ ہاتھ کے سوائے چل سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ یا درکھو! جو امن کی حالت میں ڈرتا ہے وہ خوف کی حالت میں بچایا جاتا ہے اور جو خوف کی حالت میں ڈرتا ہے تو وہ کوئی خوبی کی بات نہیں ایسے موقع پر تو کافر مشرک بے دین بھی ڈرا کرتے ہیں۔ فرعون نے بھی ایسے موقع پر ڈر کر کہا تھا قَالَ آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُوا إِسْرَاءِيلَ وَ أَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ (یونس : ۹۱) اس سے صرف اتنا فائدہ اسے ہوا کہ خدا نے فرمایا کہ تیرا بدن تو ہم بچالیں گے مگر تیری جان کو اب نہیں بچائیں گے آخر خدا نے اس کے بدن کو ایک کنارے پر لگا دیا۔ ایک چھوٹے سے قد کا وہ آدمی تھا۔ غرض جب گناہ اور معصیت کی طرف انسان ترقی کرتا ہے تو پھر لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ (الاعراف: ۳۵) والا معاملہ ہوتا ہے۔ جب اجل بلا آجاتی ہے تو پھر آگے پیچھے نہیں ہوا کرتی ۔ انسان کو چاہیے کہ پہلے ہی سے خدا کے ساتھ تعلق رکھے مگر خیال زلف تو بستن نه کار خامان است که زیر سلسله رفتن طریق عیاری است