ملفوظات (جلد 9) — Page 248
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۸ جلد نهم سے پہلے ھو الشافی لکھنا شروع کر دیا اور یہ طریق مسلمانوں کے سوا کسی نے بھی اختیار نہیں کیا۔ بڑا سعید طبیب وہ ہے جو ایک طرف تو دوا کرے اور دوسری طرف دعا میں مشغول رہے اور یہ سمجھے کہ شفا صرف خدا کے ہاتھ میں ہے۔ فرمایا۔ شیخ سعدی لکھتے ہیں کہ ایک بادشاہ کو دوسروں پر رحم کرو ا تم پر رحم کیا جاوے ناروا کی بیماری تھی ۔ اس نے کہا کہ میرے لیے دعا کریں کہ اللہ کریم مجھے شفا بخشے ۔ تو میں نے جواب دیا کہ آپ کے جیل خانہ میں ہزاروں بے گناہ قید ہوں گے ان کی بد دعاؤں کے مقابلہ میں میری دعا کب سنی جا سکتی ہے۔ تب اس نے سب قیدیوں کو رہا کر دیا اور پھر وہ تندرست ہو گیا ۔ غرض خدا کے بندوں پر اگر رحم کیا جاوے تو خدا بھی رحم کرتا ہے۔ جو لوگ دوسروں پر رحم کرتے ہیں ان پر اللہ اور اس کے رسول کو بھی رحم آجاتا ہے۔ دوسروں کے ساتھ بداخلاقی سے پیش آنا اور بے جا طور پر مال اکٹھا کرنا اور اسباب پر ہی گرے رہنا بہت بڑی بات ہے۔ تقوی اختیار کریں فرمایا۔ گو اعادہ کام کاہوتا ہے کہ چونکہ غفلت کی ہوئی ہے۔ ایک طرف وعظ و نصیحت سنی جاتی ہے اور دل میں تقویٰ حاصل کرنے کے لیے جوش پیدا ہوتا ہے مگر پھر غفلت ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہماری جماعت کو یہ بات بہت ہی یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی حالت میں نہ بھلا یا جاوے۔ ہر وقت اسی سے مدد مانگتے رہنا چاہیے۔اس کے بغیر انسان کچھ چیز نہیں۔ خوب یا د رکھو کہ وہ ایک دم میں فنا کر سکتا ہے۔ طرح طرح کے دکھ اور مصیبتیں موجود ہیں۔ بے خوف اور نڈر ہونے کا مقام نہیں۔ اس دنیا میں بھی جہنم ہو سکتا ہے اور بڑے بڑے مصائب آسکتے ہیں۔ خوب یا د رکھنا چاہیے کہ کوئی کسی کی مصیبت میں کام نہیں آ سکتا۔ اور کوئی شریک ہمدردی نہیں کر سکتا جب تک خدا خود دستگیری نہ کرے اور اپنے فضل سے آپ اس مصیبت کو دور نہ کرے۔ اسی واسطے ہر ایک کو چاہیے کہ خدا کے ساتھ پوشیدہ علاقہ رکھے رکھے۔ ۔ جو شخص جرات کے ساتھ گناہ فسق و فجور اور معصیت میں مبتلا ہوتا ہے وہ خطرناک حالت میں ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ کا عذاب اس کی تاک میں ہوتا ہے۔ اگر بار بار اللہ کریم کا رحم چاہتے ہو تو تقویٰ