ملفوظات (جلد 9) — Page 246
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۶ جلد نهم میں جا جا کے صلح کراتا پھرے گا اور دو دو چار چار آ نہ کی صلیبوں کو توڑتا پھرے گا۔ کیونکہ اس طرح سے اگر دو چار توڑیں تو سینکڑوں اور بن گئیں ۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ارادہ الہی سے کوئی ہوا ہی ایسی چلے گی اور ایسے اسباب اور وسائل پیدا ہو جائیں گے کہ لڑائی دور ہو جائے گی اور صلیب پرستی جاتی رہے گی ۔ اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگیں دفاعی تھیں فرمایا۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائیوں کے لیے سبقت نہیں کی تھی۔ بلکہ ان لوگوں نے خود سبقت کی تھی ۔ خون کئے ، ایذائیں دیں، تیرہ برس تک طرح طرح کے دکھ دیئے آخر جب صحابہ کرام سخت مظلوم ہو گئے تب اللہ تعالیٰ نے بدلہ لینے کی اجازت دی جیسے فرمایا ۔ اُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ( الحج : ٤٠) وَ قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمُ (البقرۃ: ۱۹۱ ) اس زمانہ کے لوگ نہایت وحشی اور درندے تھے۔ خون کرتے تھے۔ جنگ کرتے تھے۔ طرح طرح کے ظلم اور دکھ دیتے تھے۔ ڈاکوؤں اور لٹیروں کی طرح مار دھاڑ کرتے پھرتے تھے اور ناحق کی ایذا دہی اور خونریزی پر کمر باندھے ہوئے تھے۔ خدا نے فیصلہ دیا کہ ایسے ظالموں کو سزا دینے کا اذن دیا جاتا ہے اور یہ ظلم نہیں بلکہ عین حق اور انصاف ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لیے انہوں نے بڑی بڑی کوششیں کیں ۔ طرح طرح کے منصوبے کئے یہاں تک کہ ہجرت کرنی پڑی مگر پھر بھی انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مدینہ تک تعاقب کیا اور خون کرنے کے درپے ہوئے ۔ غرض جب ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت تک صبر کیا اور مدت تک تکلیف اٹھائی تب خدا نے فیصلہ دیا کہ جنہوں نے تم لوگوں پر ظلم کئے اور تکلیفیں دیں ان کو سزا دینے کا اذن دیا جاتا ہے اور پھر بھی یہ فرماہی دیا کہ اگر وہ صلح پر آمادہ ہوویں تو تم صلح کر لو ۔ ہمارے نبی کریم تو یتیم ، غریب، بے کس پیدا ہوئے تھے وہ لڑائیوں کو کب پسند کر سکتے تھے کے الحکم جلد ا ا نمبر ۳۳ مورخه ۱۷ استمبر ۱۹۰۷ء صفحه ۱۰