ملفوظات (جلد 9) — Page 244
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۴ جلد نهم پرانا رسمی عقیدہ لکھ دینا اور دوسری طرف کل الہامات کا بھی لکھ دینا جو اس عقیدہ کے صریح مخالف ہیں ایک ایسی بات ہے جس سے انسان عدم تصنع اور سادگی کا استدلال کر سکتا ہے۔ د دیکھوکل الہام مخالف ہیں جیسے يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى إِنَّا اَنْزَلْنَاهُ قَرِيبًا مِنَ الْقَادِيَانِ وَبِالْحَقِّ انْزَلْنَاهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ - صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَ كَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا - بعض انبیاء کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی یہ عجیب حکمت ہوتی ہے کہ ان سے ذہول سرزد ہو جاتا ہے اور وہ ذہول بھی ایک حکمت رکھتا ہے ورنہ سمجھا جاتا کہ بناوٹ سے دعویٰ کر دیا ہے اور اس طرح سے تو سمجھ میں آسکتا ہے کہ جب خزانہ موجود تھا اس وقت دعوئی نہ کیا اور اب کر دیا۔ یہ بناوٹ نہیں ہو سکتی ۔ اے ( بعد نماز ظهر ) ڈاکٹر عبدالحکیم کی غلطی حضرت عظیم الامت سلمہ ر ہا نے مرتد ڈاکٹر عبدالعلیم خان کے ایک خط کا ذکر کیا جس میں وہ لکھتا ہے کہ تمام انبیاء سے غلطیاں ہوتی رہیں ایسے ہی مجھ سے بھی ہو گئیں ۔ نے میں حضرت نے فرمایا ۔ مگر ایسی غلطیاں کہ بیس برس تک دجال کے مرید بنے رہنا ایسی ذلت اور رسوائی کسے نصیب ہوئی کہ بیس برس تک شیطان کا مرید رہا اور جسے دجال سمجھتا تھا اس کی بیعت رہا اور پھر خود مسیح ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ حضرت اقدس نے فرمایا۔ اس خط میں عبد الحکیم گویا یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ میرا دعویٰ غلط ہے میں وہ مسیح نہیں ہوں جس کی نسبت قرآن شریف اور احادیث میں وعدہ ہے۔ چونکہ وہ مسیح ناصری کی وفات کا اقرار کرتا ہے اس لیے کسی دوسرے مسیح کی آمد کا ہی قائل ہوگا ۔ مگر جب وہ ایسے زمانہ میں جو مقررہ علامتوں کے ساتھ پکارتا ہے نہ آیا تو پھر بتلاؤ وہ کس زمانہ میں ظاہر ہوگا ۔ چودھویں صدی میں سے بھی پچیس برس گزر گئے ۔ نواب صدیق حسن خاں نے بھی لکھا ہے کہ مسیح صدی کے سر پر آئے گا۔ اگر ابھی تک وہ مسیح الحکم جلدا انمبر ۳۳ مورخه ۱۷ استمبر ۱۹۰۷ صفحه ۹، ۱۰