ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 233

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۳ جلد نهم نیت پر موقوف ہیں ۔ مثنوی مولوی رومی میں جو قصے لکھے ہیں وہ سب تمثیلیں ہیں اور اصل واقعات نہیں ہیں۔ ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام تمثیلوں سے بہت کام لیتے تھے۔ یہ بھی ایک قسم کے ناول ہیں جو ناول نیت صالح سے لکھے جاتے ہیں۔ زبان عمدہ ہوتی ہے نتیجہ نصیحت آمیز ہوتا ہے اور بہر حال مفید ہیں ان کے حسب ضرورت و موقع لکھنے پڑھنے میں گناہ نہیں ۔ کے بلا تاریخ صحیح عہد فرمایا۔ حج عہد وہ ہوتا ہے کہ عہد کرنے سے پہلے طرفین نے قلب صافی کے ساتھ تمام معاملات ایک دوسرے کو سمجھا دیئے ہوں اور کوئی بات ایسی درمیان میں پوشیدہ نہ رکھی ہو جو کہ اگر ظاہر کی جاتی تو دوسرا آدمی اس عہد کو منظور نہ کرتا ۔ ہر ایک عہد جائز نہیں ہوتا کہ اس کو پورا کیا جائے بلکہ بعض عہد ایسے نا جائز ہوتے ہیں کہ ان کا توڑ نا ضروری ہوتا ہے ورنہ انسان کے دین میں سخت حرج واقع ہوتا ہے۔ کامل تزکیہ نفس فرمایا۔ پورےطور پر ترکی اس تھوڑے ہی مخصوں کو حاصل ہوتا ہے۔ اکثر لوگ جو نیک ہوتے ہیں وہ بسبب کمزوری کے کچھ نہ کچھ خرابی اپنے اندر ؟ رکھتے ہیں اور ان کے دین میں کوئی حصہ دنیوی ملونی کا بھی ہوتا ہے۔ اگر انسان اپنے سارے امور میں صاف ہو اور ہر بات میں پوری طرح تزکیہ نفس رکھتا ہو وہ ایک قطب اور غوث بن جاتا ہے۔ آپ نے ایک مشہور مولوی کا نام لیا اور فرمایا کہ وہ ایک رسالہ ماہواری نکالتا تھا۔ ایک دفعہ ہم نے اس سے دریافت کیا کہ کیا یہ خدمت رسالہ کی خالصہ اللہ کے واسطے ہے یا اس میں کچھ ملونی دنیا کی بھی ہے؟ ان دنوں میں اس کے دل کی حالت کچھ اچھی تھی۔ اس نے صفائی سے کہہ دیا کہ یہ خالص اللہ کے لیے نہیں ہے بلکہ اس میں دنیا کی ملونی بھی ہے۔ اگر کوئی فعل انسان خاص خدا کے لیے کرے تو وہ انسان کو یکدفعہ آسمان پر لے جاتا ہے۔ بدر جلد ۶ نمبر ۳۶ مورخه ۵ ستمبر ۱۹۰۷ ء صفحه ۳