ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 14

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴ جلد نهم متوجہ ہوا اور در حقیقت دنیا پر دین کو مقدم کر دے۔ یا درکھو! مخلوق کو انسان دھوکا دے سکتا ہے اور لوگ یہ دیکھ کر کہ پنج وقت نماز پڑھتا ہے یا اور نیکی کے کام کرتا ہے دھوکا کھا سکتے ہیں ۔ مگر خدا تعالیٰ دھوکا نہیں کھا سکتا۔ اس لیے اعمال میں ایک خاص اخلاص ہونا چاہیے یہی ایک چیز ہے جو اعمال میں صلاحیت اور خوبصورتی پیدا کرتا ہے۔ اب یا درکھنا چاہیے! کہ کلمہ جو ہم ہر روز پڑھتے ہیں اس کے کیا معنے ہیں؟ کلمہ کے یہ معنے ہیں کہ انسان زبان سے اقرار کرتا ہے اور دل سے تصدیق کہ میرا معبود ، محبوب اور مقصود خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں ۔ اللہ کا لفظ محبوب اور اصل مقصود اور معبود کے لیے آتا ہے۔ یہ کلمہ قرآن شریف کی ساری تعلیم کا خلاصہ ہے جو مسلمانوں کو سکھایا گیا ہے۔ چونکہ ایک بڑی اور مبسوط کتاب کا یاد کرنا آسان نہیں ۔ اس لیے یہ کلمہ سکھا دیا گیا تا کہ ہر وقت انسان اسلامی تعلیم کے مغز کو مد نظر رکھے اور جب تک یہ حقیقت انسان کے اندر پیدا نہ ہو جاوے سچ یہی ہے کہ نجات نہیں ۔ اسی لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ یعنی جس نے صدق دل سے لا اله الا اللہ کو مان لیا وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ لوگ دھوکا کھاتے ہیں اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ طوطے کی طرح لفظ کہہ دینے سے انسان جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ اگر اتنی ہی حقیقت اس کے اندر ہوتی تو پھر سب اعمال بے کار اور نکھے ہو جاتے اور شریعت ( معاذ اللہ ) لغو ٹھہرتی نہیں ! بلکہ اس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ مفہوم جو اسی میں رکھا گیا ہے وہ عملی رنگ میں انسان کے دل میں داخل ہو جاوے۔ جب یہ بات پیدا ہو جاتی ہے تو ایسا انسان فی الحقیقت جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ سے نہ صرف مرنے کے بعد بلکہ اسی اے بدر میں ہے۔ اللہ تعالیٰ حکیم ہے۔ اس نے ایک مختصر سا کلمہ سنا دیا ہے۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ جب تک خدا کو مقدم نہ کیا جاوے جب تک خدا کو معبود نہ بنا یا جاوے جب تک خدا کو مقصود نہ ٹھہرایا جاوے انسان کو نجات حاصل نہیں ہو سکتی ۔“ ( بدر جلد ۶ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه ۱۱) 66 ے بدر سے ۔ ”خدا تعالیٰ الفاظ سے تعلق نہیں رکھتا وہ دلوں سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ در حقیقت اس کلمہ کے مفہوم کو اپنے دل میں داخل کر لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی عظمت پورے رنگ کے ساتھ ان کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے وہ جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ جب کوئی شخص سچے طور پر کلمہ کا قائل ہو جاتا ہے تو بجز خدا