ملفوظات (جلد 9) — Page 13
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳ جلد نهم پڑھتے ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ صرف زبانی قیل و قال سے کبھی راضی نہیں ہوتا اور نہ نری زبانی باتوں سے کوئی خوبی انسان کے اندر پیدا ہو سکتی ہے جب تک عملی حالت درست نہ ہو۔ کچھ بھی نہیں بنتا۔ یہودیوں کے پر بھی ایک زمانہ ایسا آیا تھا کہ ان میں نری زبان درازی ہی رہ گئی تھی اور انہوں نے صرف زبان کی باتوں پر ہی کفایت کر لی تھی ۔ زبان سے تو وہ بہت کچھ کہتے تھے مگر دل میں طرح طرح کے گندے خیالات اور زہریلے مواد بھرے ہوئے تھے۔ یہی وجہ تھی جو اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر طرح طرح کے عذاب نازل کئے اور ان کو مختلف مصیبتوں میں ڈالا اور ذلیل کیا یہاں تک کہ انہیں سور اور بندر بنایا۔ اب غور کا مقام ہے! کیا وہ تو رات کو نہیں مانتے تھے؟ وہ ضرور مانتے تھے اور نبیوں کے بھی ماننے والے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے اتنی ہی بات کو پسند نہ کیا کہ وہ نرے زبان سے ماننے والے ہوں اور ان کے دل زبان سے متفق نہ ہوں ۔ خوب یا د رکھنا چاہیے ! اگر کوئی شخص زبان سے کہتا ہے کہ میں خدا کو وحدہ لاشریک مانتا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لاتا ہوں اور ایسا ہی اور ایمانی امور کا قائل ہوں لیکن اگر یہ اقرار صرف زبان ہی تک ہے اور دل معترف نہیں تو یہ زبانی باتیں ہوں گی اور نجات اس سے نہیں مل سکے گی جب تک انسان کا دل ایمان نہ لائے اور اس کا ایمان لانا یہی ہوگا کہ وہ عملی حالت میں ان امور کو ظاہر کر دے۔ اس وقت تک کوئی بات بنتی نہیں ۔ کے میں سچ کہتا ہوں کہ اصل مراد تب ہی حاصل ہوتی ہے جب سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر خدا کی طرف لے بدر میں ہے۔ ” قرآن شریف میں یہودیوں کے قصے درج ہیں۔ ان پر خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے فضل پہلے ہوئے لیکن جب ان پر ایسا زمانہ آیا کہ ان کی باتیں صرف زبان تک محدود رہ گئیں اور ان کے دل دغا اور خیانت اور خیالات بد سے پر ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کے عذاب ان پر وارد کئے ۔“ وو 66 ( بدر جلد ۶ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه ۱۱) کے بدر میں ہے ۔ ” جو ایمان صرف زبان پر ہے اور دل کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا وہ گندہ، ناکارہ اور کمزور ہے۔ وہ نہ اس جہان میں تمہارے کسی کام آسکتا ہے اور نہ اس جہان میں “ (بدر جلد ۶ نمبر ۱، ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۱۱ )