ملفوظات (جلد 9) — Page 217
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۷ جلد نهم فاضل اور مولوی لوگ اس جگہ ٹھو کر کھا گئے ہیں ۔ کے اگست ۱۹۰۷ ء ہر ایک کے واسطے تفتیش کرنا منع ہے ایک شخص نے عرض کہ میں ایک گاؤں میں دوکان ہے پر گڑ شکر بیچتا ہوں ۔ پر گڑ شکر بیچتا ہوں ۔ بعض دفعہ لڑکے یا زمینداروں کے مزدور اور خادم چاکر کپاس یا گندم یا ایسی ھے لاتے ہیں اور اس کے عوض میں سودا لے جاتے ہیں تھے جیسا کہ دیہات میں عموماً دستور ہوتا ہے لیکن بعض لڑکے یا چاکر مالک سے چوری ایسی تھے لاتے ہیں ۔ کیا اس صورت میں ان کو سودا دینا جائز ہے یا کہ نہیں ؟ ؟ فرمایا۔ جب کسی شے کے متعلق یقین ہو کہ یہ مال مسروقہ ہے تو پھر اس کا لینا جائز نہیں لیکن خواہ مخواہ اپنے آپ کو بدظنی میں ڈالنا امر فاسد ہے۔ ایسی باتوں میں تفتیش کرنا اور خواہ مخواہ لوگوں کو چور ثابت کرنے کی کوشش کرنا دوکاندار کا کام نہیں ۔ اگر دوکاندار ایسی تحقیقاتوں میں لگے گا تو پھر دوکانداری کس وقت کرے گا ؟ ہر ایک کے واسطے تفتیش کرنا منع ہے۔ قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ گائے ذبح کرو۔ بہتر تھا ایک گائے پکڑ کر ذبح کر دیتے۔ حکم کی تعمیل ہو جاتی ۔ انہوں نے خواہ مخواہ اور باتیں پوچھنی شروع کیں کہ وہ کیسی گائے ہے اور کیسا رنگ ہے اور اس طرح کے سوال کر کے اپنے آپ کو اور دقت میں ڈال دیا۔ بہت مسائل پوچھتے رہنا اور باریکیاں نکالتے رہنا اچھا نہیں ہوتا۔ سے ۱ بدر جلد ۶ نمبر ۳۲ مورخه ۸ را گست ۱۹۰۷ صفحه ۹۰۸ نیز الحکم جلد ۱۱ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۷ صفحه ۱۱ ے اس ڈائری پر صرف اگست ۱۹۰۷ ء لکھا ہے۔ قیاس یہ ہے کہ یہ ملفوظات ۲ تا ۵ اگست کی کسی تاریخ کے ہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب (مرتب) سے بدر جلد ۶ نمبر ۳۲ مورخه ۱۸ اگست ۱۹۰۷ ء صفحه ۵