ملفوظات (جلد 9) — Page 204
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۴ جلد نهم حضرت نے فرمایا کہ صحت عمدہ شے ہے تمام کاروبار دینی اور دنیاوی صحت پر موقوف ہیں ۔ صحت نہ ہو تو عمر ضائع ہو جاتی ہے۔ کیا آنحضرت کا سایہ نہ تھا جانی سے ایک دوست کا خط حضرت کی خدمت میں آیا جس وو میں یہ دریافت کیا گیا تھا کہ ” پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ تھا یا کہ نہیں بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ سایہ حضور پر نور کا زمین پر نہیں گرتا تھا ۔“ اس خط کے جواب میں حضرت نے تحریر فرمایا۔ یہ امر کسی حدیث صحیح سے ثابت نہیں ہوتا اور نہ کسی ثقہ مورخ نے لکھا ہے جو معجزات محدثین نے اپنی کتابوں میں جمع کئے ہیں ان میں اس کا ذکر نہیں ۔ مرزاغلام احمد علی اللہ عنہ کے ایک شخص نے ذکر کیا کہ اس زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان دو شخص قومی لیڈر سر سید لیڈر نہ تھا ہوتے ہیں اور ہندوؤں کے درمیان ایک ہندوؤں کے درمیان دیا تھا۔ اس کی تعلیم کے نتیجہ میں گورنمنٹ کے متعلق جو خیالات ہندوؤں کے بن گئے ہیں وہ ظاہر ہیں۔ مسلمانوں کے دو لیڈر ہوئے ۔ سرسید اور حضرت مرزا صاحب ہر دو کی جماعت ایسی ہوئی جو کہ گورنمنٹ کی سچی خیر خواہ ہے۔ حضرت نے فرمایا۔ یہ درست ہے کہ سرسید کے کالج میں جو طلباء پڑھتے ہیں یا جو لوگ ان کے ہم خیال ہیں وہ گورنمنٹ کی نسبت عمدہ خیال رکھتے ہیں لیکن اصل میں سرسید نے کوئی مذہبی جماعت نہیں بنائی اور نہ خود سر سید کوئی قومی امام لیڈر تھا بلکہ اس کے پاس اہل الرائے کا ایک مجمع تھا جو کہ بعض باتوں میں سرسید کے ساتھ متفق تھے اور بعض میں مخالف بھی تھے ۔ برخلاف اس کے یہ سلسلہ خدا تعالیٰ نے قائم کیا ہے اور مجھے اس جماعت کا امام مقرر کیا ہے یہ ایک مذہبی جماعت ہے جو ہر ایک بات بدر جلد ۶ نمبر ۲۹ مورخہ ۱۸ جولائی ۱۹۰۷ صفحه ۶ ۲ بدر جلد ۶ نمبر ۲۹ مورخہ ۱۸ جولائی ۱۹۰۷ ء صفحہ ۴